منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں سالانہ چالیس فیصد خوراک ضائع ہونے کا انکشاف

datetime 17  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن) پاکستان میں سالانہ چالیس فیصد خوراک ضائع کر دی جاتی ہے جبکہ دنیا بھر میں سالانہ ضائع ہونے والی خوراک سے ایک ارب سے زائد افراد کی غذائی ضروریات کو پورا کیا جا سکتا ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق رمضان کے دوران مسلم ممالک میں سب سے زیادہ کھانا ضائع کیا جاتا ہے جس کی وجہ مہنگے بوفے میں کھانا اور ضرورت سے زائد خریداری بتائی جاتی ہے پاکستان میں آبادی کے تناسب سے

خوراک پیدا کی جاتی ہے مگر خوراک ضائع ہونے کے باعث روزانہ 6 سے 10 افراد رات کو کھانا کھائے بغیر سونے پر مجبور ہیں جبکہ گلوبل ہنگر انڈیکس پر پاکستان 118 سے 107 درجے پر ہے تاہم ملک میں خوراک کے بڑھتے ہوئے ضیاع کو روکنے اور شہریوں ‘ ریسٹورنٹ مالکان اور معاشرے کے دیگر اہم شعبوں میں اس حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لئے سیو فوڈ مائٹ ہنگر کے نام سے ایک مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کے بعد امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں خوراک کے ضیاع کو کسی حد تک کم کیا جا سکے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…