سڈنی (نیوز ڈیسک) آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے جینیٹک انجنئیرنگ کے ذریعے ایسے پودوں کی تیاری شروع کردی ہے جن میں زندگی بچانے والی ادویات کے خواص موجود ہوں گے اور یہ پودے جان لیوا بیماریوں مثلاً کینسر، ذیابیطس، دل کے امراض اور ایچ آئی وی ایڈز وغیرہ کا بھی علاج ثابت ہو سکیں گے۔ کوئنزلینڈ یونیورسٹی کے ڈیوڈ کریک اور لا ٹروب یونیورسٹی کی ماہر میریلین اینڈرسن کے مطابق یہ ’بائیو ڈرگز‘ قیمت میں کم مگر زیادہ موثر ہوں گی۔ اس کے علاوہ ان کے عام فارماسیوٹیکل ادویات کی نسبت سائیڈ ایفکٹس بھی کم ہوں گے۔ کریک کا اے بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ”ہمارا کام پیپٹائڈز کا پتہ لگانا ہے جو پودوں میں منی پروٹینز ہوتے ہیں۔ اور پھر ان کو اس طرح سے دوبارہ ڈیزائن کرنا کہ یہ نیکسٹ جنریشن ڈرگز کا کام کر سکیں۔“ کریک کا مزید کہنا تھا، ”مثال کے طور پر ہمارے پاس پراسٹیٹ کینسر کی دوا ہے جو ہم سورج مکھی کے بیجوں میں شامل کر سکتے ہیں۔ اس طرح لوگوں کو لازمی طور پر گولیاں اور کیپسول نہیں پھانکنا پڑیں گے بلکہ پروسٹیٹ کینسر کا علاج ان کی روزانہ خوراک کے ذریعے ممکن ہو سکے گا۔ اس طرح ادویات مریض کے جسم تک پہچانے کے لیے ممکنات کی ایک نئی دنیا کھ ل جائے گی۔“ ڈیوڈ کریک کے مطابق پودوں کے ذریعے ادویات کا بہت زیادہ فائدہ ترقی پذیر دنیا کو پہنچے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ تنزانیہ میں اس وقت اوسط عمر 40 برس ہے جس کی وجہ ایچ آئی وی اور ایڈز ہے، ”اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہمارے پاس اچھی ادویات نہیں ہیں بلکہ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ لوگ انہیں خرید نہیں سکتے۔“ خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق سائنسدانوں کو امید ہے کہ وہ ایک ایسا پودا تیار کر سکیں گے جس میں ایچ آئی وی کی روک تھام کی بائیو ڈرگ موجود ہو گی۔ لوگ اس پودے کو اپنے باغات میں اگا سکیں گے اور اس سے چائے بنا کر پی سکیں گے۔ کریک کے مطابق یہ ایک ایسی چیز ہو گی جو افریقہ میں ایچ آئی وی کے علاج میں انقلاب برپا کر دے گی۔ میریلین اینڈرسن کا کہنا ہے، ”اگر یہ تھیوری حقیقت بن جاتی ہے تو لوگ اپنی ادویات خود اگا سکیں گے۔ اور اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ آپ کو انہیں ریفریجریٹر میں محفوظ کر کے نہیں رکھنا پڑے گا اور نہ آپ کو انجکشن کے ذریعے انہیں جسم میں منتقل کرنا پڑے گا اور انہیں آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل بھی کیا جا سکے گا۔“ اس طرح ادویات فارمیسی کی بجائے نرسری سے ملیں گی۔ ڈی پی اے کے مطابق ان بائیو ڈرگز کی انسانوں پر آزمائش کا عمل آئندہ 10 برسوں کے اندر اندر شروع ہونے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق پہلے مرحلے میں کینسر اور تکلیف سے نجات دلانے والی ادویات کی آزمائشیں کی جائیں گی۔
ادویات فارمیسی کی بجائے پودوں کی نرسری سے ملیں گی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں
-
محکمہ موسمیات نے پہلے روزے سے متعلق پیشگوئی کر دی
-
بابراعظم اور شاہین آفریدی کی چھٹی
-
ٹیلی نار کمپنی کا کروڑوں لوگوں سے تاریخی فراڈ
-
لاہور میں رشتہ دکھانے کے بہانے 2 سگی بہنوں کو 3 ملزمان نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
-
اپنی رجسٹرڈ سمز کی تعداد کیسے معلوم کریں؟ پی ٹی اے نے طریقہ بتا دیا
-
سعودی عرب : وزٹ ویزے پر آنے والوں کیلئے بڑی خبر
-
انجینئر محمد علی مرزا پر اکیڈمی میں حملہ
-
،ویلنٹائن ڈے کے روز کار سے نوجوان جوڑے کی لاشیں پراسرار حالت میں برآمد
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
محکمہ موسمیات کی مغربی لہر کے زیر اثر گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
پاکستان کے خلاف جیت کے باوجود بھارتی کھلاڑی آپس میں لڑ پڑے، ویڈیو وائرل
-
شاہد آفریدی اپنے داماد شاہین آفریدی پر شدید برہم
-
لاہور میں خاتون کو ہراساں کرنے والے رکشہ ڈرائیورکے نیفے میں پستول چل گیا



















































