جمعرات‬‮ ، 16 اپریل‬‮ 2026 

غصہ اور ناراضگی انسان کی عمر میں کمی کا باعث بنتی ہیں، تحقیق

datetime 7  اکتوبر‬‮  2015 |
Young woman

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )کچھ لوگ ذرا سی پریشانی میں بھی غصے سے بے قابو ہوجاتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی سخت برہمی اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں جس سے وہ کئی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں جب کہ اس حوالے سے ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ غصے کا زیادہ اظہار کرتے ہیں ان کی زندگی مسکراتے ہوئے پریشانیوں کا سامنا کرنے والوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔
لووا اسٹیٹ یونیورسٹی کی سوشل سائنس اینڈ میڈیسن جنرل میں شائع ہونے والی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کی عمر 35 سال ہوجاتی ہے ان میں غصہ اور ناراضگی کا عنصر بڑھ جاتا ہے اور جو لوگ زیادہ غصہ کرتے ہیں وہ مزید 35 سال جیتے ہیں جب کہ ان کے مقابلے میں کم غصہ کرنے والے افراد کی عمر نہ صرف زیادہ ہوتی ہے بلکہ صحت بھی اچھی رہتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ گزشتہ تحقیقات میں یہ بات سامنے ا?ئی ہے کہ زیادہ غصہ منفی نفسیاتی بیماریوں کا باعث بنتا ہے جس میں ایتھروسکیلیروسس سب سے نمایاں ہے جس میں غصہ کرنے والے شخص کی شریانیں فیٹس پیدا کرنے والے مادہ پلیک سے بند ہوجاتی ہیں اور دل کے دورے کا باعث بن سکتی ہیں اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ ناراضگی ایسا نفسیاتی عمل ہے جو انسانی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔
تحقیق کے دوران 1968 سے 2007 کے درمیان پورے برطانیہ سے 1307 افراد کا ڈیٹا جمع کیا جو اپنے گھر کے سربراہ کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق جن کی عمریں 34 سال یا اس سے زائد تھیں وہ جلدی غصے کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان میں جلدی مرنے کا خدشہ 1.57 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
ماہر نفسیات گراہم پرائس کا کہنا ہے کہ جو لوگ جلد غصے کا شکار ہوتے ہیں ان میں ماضی کے تجربات کی بنیاد پر نا انصافی سے متعلق مبالغہ ا?میزی اورغیر عقلی سوچ جیسے عنصر پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو انسان کو موت کی طرف لے جاتے ہیں، اسٹریس کو بڑھاتے ہیں جس سے زندگی کے لیے ضروری ہارمونز کورٹیسول کے خون میں اضافے کا باعث بنتا ہے اورجو خون کی گردش کو بڑھا دیتا ہے اور یہ عمل ہارٹ اٹیک کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹریس اور دیگر غصے اور ناراضگی کی شکلیں اگر طویل عرصے تک رہیں تو اس سے صحت پر منفی اثرات پڑنا شروع ہوجاتے ہیں جیسے اریٹیبل باو¿ل سینڈروم، اسٹروک، دل کا دورہ اور دیگر دل کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔
برطانوی ماہر نفسیات ہیلڈ برک کا کہنا ہے کہ کچھ ناراضگیاں ذات سے متعلق ہوتی ہیں جن کو اگر بڑھنے نہ دیا جائے تو مثبت نتائج نکل سکتے ہیں لیکن کچھ غصے کی کیفیات ذات سے ہٹ کر ماحول سے جنم لیتی ہیں جیسے ٹریفک جام میں پھنس جانا، جس سے انسان سخت کوفت کا شکار ہوکر غصے کا شکار ہوجاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب غصہ شدت اختیار کر جائے تو اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو اپنی توجہ سانس لینے اور خارج کرنے پر مرکوز کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…