پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

غصہ اور ناراضگی انسان کی عمر میں کمی کا باعث بنتی ہیں، تحقیق

datetime 7  اکتوبر‬‮  2015 |
Young woman

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )کچھ لوگ ذرا سی پریشانی میں بھی غصے سے بے قابو ہوجاتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی سخت برہمی اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں جس سے وہ کئی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں جب کہ اس حوالے سے ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ غصے کا زیادہ اظہار کرتے ہیں ان کی زندگی مسکراتے ہوئے پریشانیوں کا سامنا کرنے والوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔
لووا اسٹیٹ یونیورسٹی کی سوشل سائنس اینڈ میڈیسن جنرل میں شائع ہونے والی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کی عمر 35 سال ہوجاتی ہے ان میں غصہ اور ناراضگی کا عنصر بڑھ جاتا ہے اور جو لوگ زیادہ غصہ کرتے ہیں وہ مزید 35 سال جیتے ہیں جب کہ ان کے مقابلے میں کم غصہ کرنے والے افراد کی عمر نہ صرف زیادہ ہوتی ہے بلکہ صحت بھی اچھی رہتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ گزشتہ تحقیقات میں یہ بات سامنے ا?ئی ہے کہ زیادہ غصہ منفی نفسیاتی بیماریوں کا باعث بنتا ہے جس میں ایتھروسکیلیروسس سب سے نمایاں ہے جس میں غصہ کرنے والے شخص کی شریانیں فیٹس پیدا کرنے والے مادہ پلیک سے بند ہوجاتی ہیں اور دل کے دورے کا باعث بن سکتی ہیں اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ ناراضگی ایسا نفسیاتی عمل ہے جو انسانی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔
تحقیق کے دوران 1968 سے 2007 کے درمیان پورے برطانیہ سے 1307 افراد کا ڈیٹا جمع کیا جو اپنے گھر کے سربراہ کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق جن کی عمریں 34 سال یا اس سے زائد تھیں وہ جلدی غصے کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان میں جلدی مرنے کا خدشہ 1.57 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
ماہر نفسیات گراہم پرائس کا کہنا ہے کہ جو لوگ جلد غصے کا شکار ہوتے ہیں ان میں ماضی کے تجربات کی بنیاد پر نا انصافی سے متعلق مبالغہ ا?میزی اورغیر عقلی سوچ جیسے عنصر پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو انسان کو موت کی طرف لے جاتے ہیں، اسٹریس کو بڑھاتے ہیں جس سے زندگی کے لیے ضروری ہارمونز کورٹیسول کے خون میں اضافے کا باعث بنتا ہے اورجو خون کی گردش کو بڑھا دیتا ہے اور یہ عمل ہارٹ اٹیک کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹریس اور دیگر غصے اور ناراضگی کی شکلیں اگر طویل عرصے تک رہیں تو اس سے صحت پر منفی اثرات پڑنا شروع ہوجاتے ہیں جیسے اریٹیبل باو¿ل سینڈروم، اسٹروک، دل کا دورہ اور دیگر دل کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔
برطانوی ماہر نفسیات ہیلڈ برک کا کہنا ہے کہ کچھ ناراضگیاں ذات سے متعلق ہوتی ہیں جن کو اگر بڑھنے نہ دیا جائے تو مثبت نتائج نکل سکتے ہیں لیکن کچھ غصے کی کیفیات ذات سے ہٹ کر ماحول سے جنم لیتی ہیں جیسے ٹریفک جام میں پھنس جانا، جس سے انسان سخت کوفت کا شکار ہوکر غصے کا شکار ہوجاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب غصہ شدت اختیار کر جائے تو اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو اپنی توجہ سانس لینے اور خارج کرنے پر مرکوز کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…