اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان میں عہدیداروں کا کہنا ہے کہ افغان سرحد کے آر پار اگر دونوں حکومتوں کی طرف سے ایک ہی وقت میں انسداد پولیو مہم چلائی جائے تو اس سے اس وائرس کے خاتمے کے لیے کوششوں کو تقویت ملے گی۔پاکستان کے انسداد پولیو سیل کی سربراہ سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں آباد ہزاروں افراد ایک سے دوسرے ملک سفر کرتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے اکثر اوقات ا±ن کے بچے پولیو سے بچاو¿ کے قطرے پینے سے محروم رہ جاتے ہیں۔تاہم ا±نھوں نے تجویز دی کہ اگر دونوں ملک ایک ساتھ اپنے سرحدی علاقوں میں انسداد پولیو مہم شروع کریں تو اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔”یہ بہت اہم ہے کہ جب ہم سرحدی علاقوں میں انسداد پولیو مہم شروع کرتے ہیں تو اسی وقت دوسری طرف افغانستان کے سرحدی علاقوں میں بھی ایسی مہم شروع کی جائے کیونکہ سرحد کے آرپار روزانہ اتنی بڑی تعداد میں آمدورفت ہوتی ہے کہ ایک ساتھ مہم چلا کر ہم پاک افغان سرحد کے دونوں طرف کے لوگوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔“اس سلسلے میں افغان حکام سے مشاورت کے لیے عائشہ رضا فاروق کی قیادت میں دو رکنی پاکستانی وفدنے افغان حکام سے بات چیت کے لیے کابل جانا تھا لیکن بعض انتظامی وجوہات کی بنا پر یہ دورہ موخر کر دیا گیا۔عائشہ رضا فاروق کا کہنا تھا کہ دونوں ملک آپس میں تعاون اور معلومات کے تبادلے سے انسداد پولیو کی موثر مہم چلا سکتے ہیں۔ ”اگر بلوچستان میں ہم اپنی طرف پولیو مہم چلاتے ہیں اور سرحد کے اس پار (افغانستان کے حکام) اسی طرح کی مہم چلایئں اور ہم سے معلومات کا تبادلہ کریں تو اس سے ہم پولیو کے خاتمے اور پولیو وائرس کے پھیلاو¿ کو روکنے کے لیے بہتر کام کر سکتے ہیں۔“عائشہ کا کہنا تھا پاکستان ملک کے اندر پولیو کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے کہ پاکستان سے پولیو وائرس کسی اور ملک میں منتقل نا ہو۔ا±ن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انسداد پولیو کی حالیہ ملک گیر مہمات کی وجہ سے اس سال پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد گزشتہ سال کے پہلے چار ماہ کے دوران رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز سے کم ہے۔”ہم ہر کوشش کر رہے ہیں اور کوئی کمی نہیں چھوڑنا چاہتے، گزشتہ سال اس عرصے میں پولیو کیسز کی تعداد 56 تھی جبکہ اس سال اب تک یہ تعداد 21 ہے جبکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گزشتہ سال اس دوران پولیو کیسز کی تعداد 46 تھی جو اس سال صرف 13 ہے یوں یقیناً بہتری ہو رہی ہے۔“پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سکیورٹی خدشات کے باعث انسداد پولیو مہم متاثر ہوتی رہی ہے اور اس کی وجہ سے ان علاقوں میں رہنے والے بچوں کی ایک بڑی تعداد تک انسداد پولیو کی ٹیمیں نہیں پہنچ سکیں۔تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پورے ملک بشمول قبائلی علاقوں میں امن و امان کی صورت حال میں قدرے بہتری کے بعد اب وہاں کے رہنے والے زیادہ تر بچوں کو پولیو سے بچاو¿ کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔پاکستان اور افغانستان کا شمار دنیا کے ان تین ملکوں میں ہوتا ہے جہاں سے پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا ہے،
پاکستان افغانستان سرحدی علاقوں میں ایک ہی وقت انسداد پولیو مہم چلانے کی تجویز
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا
-
تعلیمی اداروں میں موسم سرماکی چھٹیوں میں اضافے کا اعلان
-
خوشخبری!نئے سال میں CG 125 اورسی ڈی 70 جدید خصوصیات کے ساتھ پیش،قیمتیں بھی سامنے آگئیں
-
موسم سرما کی شدت میں اضافے پر تعلیمی اداروں کے اوقات کار تبدیل، نوٹی فکیشن جاری
-
سونے کی قیمت میں بھاری اضافہ
-
برمنگھم میں آسمان گلابی ہوگیا، لوگ خوفزدہ، وجہ سامنے آگئی
-
اسلام آباد، یونیورسٹی طالبہ کو شادی کا جھانسہ دیکر کلاس فیلو کی زیادتی
-
ٹرمپ نے چین اور روس کو بڑی’’پیشکش‘‘ کر دی
-
پنجاب حکومت کابیرون ملک نوکری کے خواہشمند نوجوانوں کے لئے بڑااعلان
-
پولیس افسر کے ہاتھوں بیوی کا قتل، عینی شاہد بیٹی کے تہلکہ خیز انکشافات
-
شدید سردی ،والدین نےسکولوں کی چھٹیاں بڑھانے کا مطالبہ کر دیا
-
پاکستان نیوی کا زمین سے فضا تک مار کرنیوالے ایل وائی 80 میزائل کا تجربہ
-
گھنے بالوں کا جھانسہ، شوہر گنجا نکلا، بیوی نے ایف آئی آر درج کرادی
-
بچوں کے لیے استعمال ہونے والے سیرپ پر فوری پابندی عائد















































