بدھ‬‮ ، 15 اپریل‬‮ 2026 

نیند پوری نہ ہونے سے دماغی کمزور ی لاحق ہو سکتی ہے

datetime 17  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )جرنل آف نیورولوجی میں چھپنے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق جن لوگوں کو نیند کے دوران سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے انھیں قبل از وقت یادداشت کھونے کی بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔امریکی سائنس دانوں نے اس بات کا پتہ 55 سال سے زائد عمر کے 2400 لوگوں پر تحقیق کرنے کے بعد لگایا۔جن لوگوں کو نیند کے دوران سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے انھوں نے یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی قابلیت سے منسلک مسائل کے بارے میں شکایت کی۔محققوں نے اس بارے میں مزید تحقیق جاری رکھی ہوئی ہے اور حال ہی میں نیند کے ناقص معیار کے بیماریوں کے ساتھ تعلق کے بڑھتے ہوئے ثبوت ملے ہیں۔امریکہ میں بڑے پیمانے پر کیے جانے والے ایلزہائمرز ریسرچ پروجیکٹ سے منسلک سائنس دانوں نے ان لوگوں پر تحقیق کی جنھیں سلیپ ایپنیا (sleep apnea) کی شکایت ہے۔ یہ بیماری ایسے لوگوں کو لاحق ہوتی ہے جن کی نیند کے دوران سانس ناہموار ہوتی ہے۔ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ جب یہ لوگ محوِ خواب ہوتے ہیں تو ان کی گردن کے اندر موجود پٹھے آرام دہ پوزیشن میں چلے جاتے ہیں جس سے ان کی سانس کی نالی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔اس مرض کا شکار مریض عموماً خراٹے لیتے ہیں اور نیند سے بار بار بیدار ہوتے ہیں۔محققین کو تشویش ہے کہ اس سے جسم کے اہم اعضا، مثلاً دماغ تک آکسیجن کی پوری طرح رسائی نہیں ہوتی۔’نیند کے دوران سانس لینے میں رکاوٹ کا یادداشت کے مسئلے سے منسلک ہونا بہت دلچسپ ہے‘سائنس دانوں نے اس مسئلے کا شکار 70 سال سے زائد عمر کے افراد میں یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کی کمی دیکھی۔ ایسے افراد کو یہ مسائل دس سال قبل از وقت لاحق ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔جبکہ وہ افراد جو ’سی پی اے پی‘ (سانس کی نالیوں کو کھولے رکھنے والی مشین) کا استعمال کرتے ہیں انھیں اس مسئلے کی شکایت نہیں تھی۔محققین اب یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا سی پی اے پی مشین یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کی حفاظت بھی کر پائے گی؟برطانوی ایلزہائمرز ریسرچ سینٹر سے منسلک ڈاکٹر سائمن رڈلی نے کہا: ’دماغ کو صحیح طرع سے آکسیجن نہ پہنچنے سے اس پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ نیند کے دوران سانس لینے میں رکاوٹ کا یادداشت کے مسئلے سے منسلک ہونا بہت دلچسپ ہے۔‘جبکہ ڈاکٹر ڈی براو¿ن کہتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی تحقیق سے ہمیں یہ پتہ چلا تھا کہ نیند کے دورانیے اور اس کے معیار کا باضابطہ طور پر ہماری ذہنی صحت سے تعلق ہے۔ اور نیند سے درپیش مسائل کا ادھیڑ عمر کے لوگوں میں عام ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمیں اس موضوع پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کی سب سے بڑی کام یابی


وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…