اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

نیند پوری نہ ہونے سے دماغی کمزور ی لاحق ہو سکتی ہے

datetime 17  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )جرنل آف نیورولوجی میں چھپنے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق جن لوگوں کو نیند کے دوران سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے انھیں قبل از وقت یادداشت کھونے کی بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔امریکی سائنس دانوں نے اس بات کا پتہ 55 سال سے زائد عمر کے 2400 لوگوں پر تحقیق کرنے کے بعد لگایا۔جن لوگوں کو نیند کے دوران سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے انھوں نے یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی قابلیت سے منسلک مسائل کے بارے میں شکایت کی۔محققوں نے اس بارے میں مزید تحقیق جاری رکھی ہوئی ہے اور حال ہی میں نیند کے ناقص معیار کے بیماریوں کے ساتھ تعلق کے بڑھتے ہوئے ثبوت ملے ہیں۔امریکہ میں بڑے پیمانے پر کیے جانے والے ایلزہائمرز ریسرچ پروجیکٹ سے منسلک سائنس دانوں نے ان لوگوں پر تحقیق کی جنھیں سلیپ ایپنیا (sleep apnea) کی شکایت ہے۔ یہ بیماری ایسے لوگوں کو لاحق ہوتی ہے جن کی نیند کے دوران سانس ناہموار ہوتی ہے۔ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ جب یہ لوگ محوِ خواب ہوتے ہیں تو ان کی گردن کے اندر موجود پٹھے آرام دہ پوزیشن میں چلے جاتے ہیں جس سے ان کی سانس کی نالی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔اس مرض کا شکار مریض عموماً خراٹے لیتے ہیں اور نیند سے بار بار بیدار ہوتے ہیں۔محققین کو تشویش ہے کہ اس سے جسم کے اہم اعضا، مثلاً دماغ تک آکسیجن کی پوری طرح رسائی نہیں ہوتی۔’نیند کے دوران سانس لینے میں رکاوٹ کا یادداشت کے مسئلے سے منسلک ہونا بہت دلچسپ ہے‘سائنس دانوں نے اس مسئلے کا شکار 70 سال سے زائد عمر کے افراد میں یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کی کمی دیکھی۔ ایسے افراد کو یہ مسائل دس سال قبل از وقت لاحق ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔جبکہ وہ افراد جو ’سی پی اے پی‘ (سانس کی نالیوں کو کھولے رکھنے والی مشین) کا استعمال کرتے ہیں انھیں اس مسئلے کی شکایت نہیں تھی۔محققین اب یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا سی پی اے پی مشین یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کی حفاظت بھی کر پائے گی؟برطانوی ایلزہائمرز ریسرچ سینٹر سے منسلک ڈاکٹر سائمن رڈلی نے کہا: ’دماغ کو صحیح طرع سے آکسیجن نہ پہنچنے سے اس پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ نیند کے دوران سانس لینے میں رکاوٹ کا یادداشت کے مسئلے سے منسلک ہونا بہت دلچسپ ہے۔‘جبکہ ڈاکٹر ڈی براو¿ن کہتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی تحقیق سے ہمیں یہ پتہ چلا تھا کہ نیند کے دورانیے اور اس کے معیار کا باضابطہ طور پر ہماری ذہنی صحت سے تعلق ہے۔ اور نیند سے درپیش مسائل کا ادھیڑ عمر کے لوگوں میں عام ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمیں اس موضوع پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…