جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

دونوں ہاتھ باندھ لینے سے درد میں کمی

datetime 24  فروری‬‮  2015 |

لندن:(نیوز ڈیسک) جسم کے کسی بھی حصے میں درد ہو تو سب سے پہلے یا تو اسے دبانے کا خیال ذہن میں آتا ہے یا پھر کوئی نہ کوئی درد کش دوا کھائی جاتی ہے تاکہ تکلیف دور ہو جائے ۔ تاہم حالیہ تحقیق میں سائنسدانوں نے بالکل الگ اور نیاطریقہ متعارف کروایا ہے جس سے درد میں کوئی بھی دوا کھائے بغیر کمی کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کہ کسی بھی قسم کے درد سے نجات کے لیے آسان سا نسخہ یہ ہے کہ اپنے ہاتھ کندھوں پر باندھ لیں۔ ذہن کو کنفیوز کرنے کا یہ عمل درد میں حیرت انگیز طور پر آرام دیتا ہے۔ ایک مطالعے میں کہا گیا ہے کہ ہاتھ باندھ لینے سے ذہن کنفیوز ہو جاتا ہے اور توجہ درد سے ہٹ جاتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دماغ کا دایاں حصہ جسم کے دائیں حصے اور بایاں حصہ جسم کے بائیں حصے کو کنٹرول کرتا ہے۔ لیکن جب ہم ہاتھ باندھتے ہیں تو دماغ کا یہ سسٹم کچھ کنفیوز ہو جاتا ہے اور درد کے احساس میں کمی آجاتی ہے۔ ریسرچرز کا کہنا ہے کہ ہاتھ کے درد میں اس تکنیک پر عمل کرنے کے بعد یہ نظریہ قائم کیاگیا ہے ۔ تاہم ابھی جسم کے دیگر حصوں میں درد کے حوالے سے یہ تجربہ نہیں کیا گیا ۔ درد اور ہاتھ باندھنے کے درمیان تعلق پر یہ ریسرچ پین جرنل شائع ہوئی ہے۔ ماہرین طب نے کہا کہ یہ نسخہ سب سے زیادہ اس وقت کام آتا ہے جب اگر آپکا ہاتھ جل جائے یا بازو ‘ہاتھ پر کوئی زخم ہو جائے توہاتھوں کو باندھ لیں ‘ آپ کو فوری طور پر درد میں ریلیف ملے گا۔ یہ تحقیق یونیورسٹی کالج آف لندن کے تحقیق یونیورسٹی کالج آف لندن کے محققین کی جانب سے کئی گئی ہے جنوں نے چار ملی سیکنڈز میں آٹھ افراد کے ہاتھوں میں سوئیاں چبھوئیں۔ یہ ٹیسٹ دو باررہ باندھے ہوئے ہاتھ یا بازؤں کے ساتھ دہرایا گیا ۔ ماہرین نے دیکھا کہ پہلے ٹیسٹ کے دوران ان افراد کو زیادہ تکلیف محسوس ہوئی اور دماغ کا درد محسوس کرنے والا حصہ بھی زیادہ متحرک ہوا جبکہ ایسا ہی جب باندھے ہوئے بازوؤں کے ساتھ دہرایا گیا تو دماغ کے تکلیف محسوس کر نے والے حصوں میں کشمکش پائی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…