بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

ملک کا بینکاری شعبہ مستحکم ہے، عوام افواہوں پر کان نہ دھریں،سٹیٹ بینک

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

کراچی۔۔۔کے اے ایس بی بینک پر التوائے ادائیگی (moratorium) کے نفاذ کے بعد سے کچھ افواہیں پھیلائی جارہی ہیں کہ بعض بینکوں کی مالی حالت کمزور ہے اور انہیں تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔اس کے ساتھ اسٹیٹ بینک سے منسوب گمراہ کن معلومات بھی پھیلائی جارہی ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے ان گمراہ کن معلومات کا سخت نوٹس لیا ہے اور یہ وضاحت کی جارہی ہے کہ ایسی کوئی معلومات میڈیا کے ذریعے عام نہیں کی گئیں، نہ ہی اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر دی گئی ہیں۔ عوام کو ان افواہوں پر توجہ نہیں دینی چاہیے جو بینکاری نظام کے مجموعی استحکام اور کارکردگی پر منفی طور پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔ اسٹیٹ بینک عوام کو یقین دلاتا ہے کہ ملک کا بینکاری شعبہ مستحکم اور مضبوط ہے۔
بینکاری نظام کو مستحکم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک نے بینکوں کی اساس سرمایہ (capital base) کو بڑھانے کی خاطر بعض سنگ میل مقرر کیے تھے جو اطمینان بخش طور پر حاصل کیے جارہے ہیں۔ سرمائے کی بہتری کے لیے اسٹیٹ بینک بینکوں سے باقاعدگی سے رابطے میں رہتا ہے۔ چنانچہ بینکاری نظام کی ایکویٹی بنیاد (equity base) ستمبر 2013 میں 900 ارب روپے سے 11 فیصد بڑھ کر ستمبر 2014 میں 1000 ارب روپے ہوگئی۔اس بات کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ بینکاری شعبے کی کارکردگی خاصی متاثر کن رہی ہے۔ جیسا کہ خر ستمبر 2014 کی بینکاری نظام کی سہ ماہی شماریات میں بتایا جاچکا ہے۔ پاکستان کے بینکوں نے 2014 کے پہلے نو ماہ میں 176 ارب روپے کا تاریخی قبل از ٹیکس منافع کمایا جبکہ اس کی ادائیگی قرض کی صلاحیت (solvency) 15.5 فیصد کی شرح کفایت سرمایہ (سی اے ا?ر)کے ساتھ مضبوط ہے۔ مارکیٹ کی سرمایت اور اسٹاک ایکسچینجوں میں مندرج کمپنیوں کے درمیان منافع منقسمہ کی تقسیم کے لحاظ سے بینکاری شعبہ دوسرا سب سے بڑا شعبہ ہے۔
متوقع طور پر نئے سرمائے کی ا مد اور بہتر ہوتی ہوئی نفع ا وری کی وجہ سے بینکاری نظام کی سرمائے کی پوزیشن مزید مستحکم ہوگی۔بینکوں کی اساس سرمایہ میں مسلسل بہتری سے میڈیا میں جاری افواہوں کی واضح طور پر تردید ہوتی ہے۔ اسٹیٹ بینک عوام کو یقین دلاتا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی پالیسیاں ڈپازٹرز کے مفاد کے تحفظ اور بینکاری نظام کے استحکام کے لیے کام کرتی رہیں گی۔ اس طرح کا ضوابطی اقدام جیسا کہ کے اے ایس بی بینک کے ضمن میں کیا گیا متعلقہ ادارے کو درپیش مسئلہ حل کرنے اور ڈپازٹرز کے مفاد کا تحفظ کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اسٹیٹ بینک ملک کے بینکاری نظام کے استحکام کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…