پیر‬‮ ، 23 مارچ‬‮ 2026 

الیکشن لڑنا ہے تو پہلے گھر میں بیت الخلا بنوائیں

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

نئی دہلی۔۔۔کیا ایسے شخص پر انتخابات میں حصہ لینے کی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ درست ہے جس کے گھر میں بیت الخلا نہ ہو؟کم از کم بھارت کی ریاست گجرات کا یہی خیال ہے۔ اس ہفتے اس ریاست کی اسمبلی نے ایک قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت بلدیاتی انتخابات لڑنے کے لیے امیدوار پر لازم ہے کہ اس کے مکان میں بیت الخلا ہو۔وہ لوگ جو پہلے ہی سے ممبران ہیں، انھیں چھ ماہ کے اندر اندر حلف نامہ جمع کرانا ہو گا کہ ان کے مکانات میں بیت الخلا ہیں ورنہ ان کو نااہل قرار دے دیا جائے گا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی اہم ترین ترجیحات میں سے ایک لوگوں کو کھلی جگہ کو بیت الخلا کے طور پر استعمال کرنے کی عادت ختم کرانا ہے۔یہ ایک قابلِ قدر ہدف ہے، اور واضح طور پر گجرات اسمبلی میں بی جے پی کے ارکان نے اپنے رہنما کے نقش قدم پر چلنے کا اعادہ کیا ہے۔یقیناً اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے۔ کھلی جگہ کو بیت الخلا کے طور پر استعمال کرنے کے باعث کروڑوں بھارتیوں کو مشکلات پیش آتی ہیں اور یہ مضرِ صحت بھی ہے۔بھارت کی آدھی آبادی کھلی جگہ کو بیت الخلا کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ گجرات بیت الخلاؤں کی تعمیر کے سلسلے میں زیادہ جلدی دکھا رہا ہے کیونکہ اس بارے میں اس کا ریکارڈ کچھ زیادہ اچھا نہیں ہے۔ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گجرات کے شہر احمد آباد میں روزانہ 70 ہزار لوگ کھلی جگہ کو بیت الخلا کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔گجرات کے وزیر اعلیٰ آنندی پٹیل کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ گجرات میں دو سال کے اندر ہر شخص بیت الخلا استعمال کرے۔ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گجرات کے شہر احمد آباد میں روزانہ 70 ہزار لوگ کھلی جگہ کو بیت الخلا کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
لیکن کیا جمہوری حق کو بیت الخلا سے منسلک کرنا ایک اچھا قدم ہے؟گجرات کی کْل آبادی میں سے 40 فیصد آبادی ریاست کی 159 بلدیاتی اور آٹھ میونسپل کارپوریشن کے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔ ریاست میں 18500 سے زیادہ دیہات ہیں جن میں 13500 دیہی کونسلیں ہیں۔ یہاں پر انتخابات گجرات میں جمہوریت اور ترقیاتی کاموں کے لیے نہایت اہم ہیں، اور انتخابات میں حصہ لینا ہر فرد کا انسانی حق ہے۔اسی لیے حکومت کی اس پالیسی کے ناقد اور ماہر معیشت ہمنت شاہ کے مطابق یہ قانون ’غیر جمہوری اور امتیازی‘ ہے جس کو عدالت میں چیلنج کیا جانا چاہیے۔گجرات میں ہزاروں افراد جھونپڑیوں میں رہتے ہیں اور کئی خاندان کے لیے ایک ہی بیت الخلا ہے۔ کیا ان افراد کو اس لیے انتخابات میں حصہ لینے نہیں دینا چاہیے کہ ان کے پاس صرف اپنے استعمال کے لیے بیت الخلا نہیں ہے؟ ایسے علاقے سے تعلق رکھنے والے شخص کا کیا سیاست میں کوئی مستقبل نہیں جس کا گھر ہی بیت الخلا جتنا بڑا ہے؟ہمنت شاہ کا کہنا ہے: ’حکومت کو بیت الخلا بنانے کے لیے پہلے رقم اور جگہ مہیا کرنا چاہیے۔ شہری ترقی میں سب سے زیادہ متاثر غریب شخص ہوتا ہے کیونکہ ترقیاتی منصوبہ بندی میں اس کا خیال رکھا ہی نہیں جاتا، اور اب وہ سیاست میں حصہ لینے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے کیونکہ ان کے پاس بیت الخلا نہیں ہے۔‘یہ ایک جائز سوال ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…