نئی دہلی۔۔۔کیا ایسے شخص پر انتخابات میں حصہ لینے کی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ درست ہے جس کے گھر میں بیت الخلا نہ ہو؟کم از کم بھارت کی ریاست گجرات کا یہی خیال ہے۔ اس ہفتے اس ریاست کی اسمبلی نے ایک قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت بلدیاتی انتخابات لڑنے کے لیے امیدوار پر لازم ہے کہ اس کے مکان میں بیت الخلا ہو۔وہ لوگ جو پہلے ہی سے ممبران ہیں، انھیں چھ ماہ کے اندر اندر حلف نامہ جمع کرانا ہو گا کہ ان کے مکانات میں بیت الخلا ہیں ورنہ ان کو نااہل قرار دے دیا جائے گا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی اہم ترین ترجیحات میں سے ایک لوگوں کو کھلی جگہ کو بیت الخلا کے طور پر استعمال کرنے کی عادت ختم کرانا ہے۔یہ ایک قابلِ قدر ہدف ہے، اور واضح طور پر گجرات اسمبلی میں بی جے پی کے ارکان نے اپنے رہنما کے نقش قدم پر چلنے کا اعادہ کیا ہے۔یقیناً اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے۔ کھلی جگہ کو بیت الخلا کے طور پر استعمال کرنے کے باعث کروڑوں بھارتیوں کو مشکلات پیش آتی ہیں اور یہ مضرِ صحت بھی ہے۔بھارت کی آدھی آبادی کھلی جگہ کو بیت الخلا کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ گجرات بیت الخلاؤں کی تعمیر کے سلسلے میں زیادہ جلدی دکھا رہا ہے کیونکہ اس بارے میں اس کا ریکارڈ کچھ زیادہ اچھا نہیں ہے۔ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گجرات کے شہر احمد آباد میں روزانہ 70 ہزار لوگ کھلی جگہ کو بیت الخلا کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔گجرات کے وزیر اعلیٰ آنندی پٹیل کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ گجرات میں دو سال کے اندر ہر شخص بیت الخلا استعمال کرے۔ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گجرات کے شہر احمد آباد میں روزانہ 70 ہزار لوگ کھلی جگہ کو بیت الخلا کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
لیکن کیا جمہوری حق کو بیت الخلا سے منسلک کرنا ایک اچھا قدم ہے؟گجرات کی کْل آبادی میں سے 40 فیصد آبادی ریاست کی 159 بلدیاتی اور آٹھ میونسپل کارپوریشن کے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔ ریاست میں 18500 سے زیادہ دیہات ہیں جن میں 13500 دیہی کونسلیں ہیں۔ یہاں پر انتخابات گجرات میں جمہوریت اور ترقیاتی کاموں کے لیے نہایت اہم ہیں، اور انتخابات میں حصہ لینا ہر فرد کا انسانی حق ہے۔اسی لیے حکومت کی اس پالیسی کے ناقد اور ماہر معیشت ہمنت شاہ کے مطابق یہ قانون ’غیر جمہوری اور امتیازی‘ ہے جس کو عدالت میں چیلنج کیا جانا چاہیے۔گجرات میں ہزاروں افراد جھونپڑیوں میں رہتے ہیں اور کئی خاندان کے لیے ایک ہی بیت الخلا ہے۔ کیا ان افراد کو اس لیے انتخابات میں حصہ لینے نہیں دینا چاہیے کہ ان کے پاس صرف اپنے استعمال کے لیے بیت الخلا نہیں ہے؟ ایسے علاقے سے تعلق رکھنے والے شخص کا کیا سیاست میں کوئی مستقبل نہیں جس کا گھر ہی بیت الخلا جتنا بڑا ہے؟ہمنت شاہ کا کہنا ہے: ’حکومت کو بیت الخلا بنانے کے لیے پہلے رقم اور جگہ مہیا کرنا چاہیے۔ شہری ترقی میں سب سے زیادہ متاثر غریب شخص ہوتا ہے کیونکہ ترقیاتی منصوبہ بندی میں اس کا خیال رکھا ہی نہیں جاتا، اور اب وہ سیاست میں حصہ لینے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے کیونکہ ان کے پاس بیت الخلا نہیں ہے۔‘یہ ایک جائز سوال ہے۔
الیکشن لڑنا ہے تو پہلے گھر میں بیت الخلا بنوائیں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
’بیوی، بچے بضد تھے کہ مری دیکھنا ہے‘: وین حادثے میں پانچ بچوں، اہلیہ اور والدہ کو کھونے والے ملتان ک...
-
حکومت کا سرکاری ملازمین کو ایڈہاک ریلیف ضم کر کے نیا پے سکیل جاری کرنے کا فیصلہ
-
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن سے متعلق بڑا فیصلہ
-
حکومت کا تنخواہ دار طبقے کے 4 سلیبس پر ٹیکس میں کمی اور سرچارج ختم کرنے کا اعلان
-
پاکستان میں محرم الحرام کا چاند کب نظر آئیگا؟ محکمہ موسمیات نے بتادیا
-
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی منظوری
-
پی ٹی اے نے موبائل فون صارفین کو اہم سہولت فراہم کر دی
-
یکم محرم الحرام اور یوم عاشور کب ہوگا؟ماہرین فلکیات نے پیش گوئی کردی
-
یکم جولائی سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام صارفین کو کتنی رقم ملے گی؟ بڑی خوشخبری آگئی
-
آم کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کی دوسری لڑکی بھی دم توڑ گئی، واقعے کی تحقیقات جاری
-
بہاولپور میں نوجوان سے زیادتی کی کوشش کے الزام میں 2 خواتین گرفتار، حیران کن انکشاف
-
پاکستان ، قرعہ اندازی میں کروڑ پتی بننے والے خوش نصیبوں کا اعلان
-
لاہور سمیت پنجاب بھر میں آندھی اور بارش کی پیشگوئی، الرٹ جاری
-
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی



















































