بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

دنیا ایک نئی سرد جنگ کے دہانے پر ہے، گورباچوف

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

ماسکو۔۔۔۔ سوویت یونین کے سابق رہنما میخائل گورباچوف نے کہا کہ دنیا ایک نئی سرد جنگ کے دہانے پر ہے اور اس کی ذمہ داری مغربی ممالک بالخصوص امریکہ پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے سوویت یونین کیخاتمے پر فاتحانہ انداز اپنا لیا تھا۔تراسی سالہ میخائل گورباچوف جرمنی کو دو ممالک میں تقسیم کرنے والے دیوارِ برلن کے گرنے کی سلور جوبلی تقریبات میں شرکت کے لیے جرمنی میں موجود ہیں۔
گورباچوف نیکہا:’ دنیا ایک اور سرد جنگ کے دہانے پر ہے، جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے یہ جنگ پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔‘میخائل گورباچوف نے کہا کہ اگر یورپ اور روس میں کشیدگی کشیدگی بڑھتی رہی تو دنیا میں طاقت کے دوسرے مراکز مزید طاقتور ہو جائیں گے اور یورپ بیاثر ہو کر رہ جائے گا۔میخائل گورباچوف نے کہا یورپ دنیا میں تبدیلی کا رہنما بننے کی بجائے سیاسی بدامنی کا اکھاڑ بن چکا ہے۔میخائل گورباچوف نے کہا کہ 1989 میں سوویت یونین کے خاتمے پر مغربی ممالک نے روسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا پر اپنا غلبہ قائم کیا اور دوسرے ممالک کے مشوروں کو سننا بھی گورا نہیں کیا۔گورباچوف نے کہا کہ مغرب ممالک نے نیٹو اتحاد میں توسیع، یوگوسلایہ، عراق، لیبیا، شام میں کارروائیوں اور یورپ میں دفاعی میزائل پروگرام سے روس کو ناراض کیا۔سوویت یونین کے سابق رہنما نے یورپ اور روس کیمابین کشیدگی کو ایک خراب زخم سے تشبیہ دی۔انھوں نے کہا :’ایک آبلہ اب پھوڑا بن بن چکا ہے۔اس سے سب سے زیادہ تکلیف کس کو ہو رہی ہے۔ جواب واضح ہے: یورپ۔‘
میخائل گورباچوف نے کہا کہ دنیا کو نئی سرد جنگ سے بچانے کے لیے یورپ کو روس کے ساتھ اعتماد کی فضا کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔یورپ بالخصوص امریکہ یوکرین میں حالات کو خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں۔نیٹو کی توسیع پسندانہ پالیسیوں نے یوکرین میں حالات کو خراب کیا۔مغربی ممالک کو روس کے ساتھ مذاکرات کیذریعے کشیدگی کو کم کرنا ہوگا۔یوکرین میں پیدا ہونے والے حالات نے مغربی طاقتوں اور روس کے مابین تعلقات کو انتہائی کشیدہ کر دیا ہے۔مغربی ممالک الزام عائد کرتے ہیں کہ روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسند یوکرین کے ٹکڑے کر رہے ہیں۔گورباچوف نے کہا کہ یورپ بالخصوص امریکہ یوکرین میں حالات کو خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ انھوں نے کہا نیٹو کی توسیع پسندانہ پالیسیوں نے یوکرین میں حالات کو خراب کیا۔سوویت یونین کے سابق رہنما نے مغرب ممالک کو مشورہ دیا کہ روس کے ساتھ اعتماد کی بحالی کے لیے روسی رہنماؤں پر عائد پابندیوں کو ختم کریں۔دیوار برلن کے خاتمے کی سلور جوبلی کی تقریبات میں شرکت کے لیے مشرقی یورپ سے لوگ وہاں پہنچ رہے ہیں۔ پولینڈ کے سابق صدر لیخ ولیسا بھی جرمنی پہنچے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…