بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

دنیا ایک نئی سرد جنگ کے دہانے پر ہے، گورباچوف

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

ماسکو۔۔۔۔ سوویت یونین کے سابق رہنما میخائل گورباچوف نے کہا کہ دنیا ایک نئی سرد جنگ کے دہانے پر ہے اور اس کی ذمہ داری مغربی ممالک بالخصوص امریکہ پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے سوویت یونین کیخاتمے پر فاتحانہ انداز اپنا لیا تھا۔تراسی سالہ میخائل گورباچوف جرمنی کو دو ممالک میں تقسیم کرنے والے دیوارِ برلن کے گرنے کی سلور جوبلی تقریبات میں شرکت کے لیے جرمنی میں موجود ہیں۔
گورباچوف نیکہا:’ دنیا ایک اور سرد جنگ کے دہانے پر ہے، جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے یہ جنگ پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔‘میخائل گورباچوف نے کہا کہ اگر یورپ اور روس میں کشیدگی کشیدگی بڑھتی رہی تو دنیا میں طاقت کے دوسرے مراکز مزید طاقتور ہو جائیں گے اور یورپ بیاثر ہو کر رہ جائے گا۔میخائل گورباچوف نے کہا یورپ دنیا میں تبدیلی کا رہنما بننے کی بجائے سیاسی بدامنی کا اکھاڑ بن چکا ہے۔میخائل گورباچوف نے کہا کہ 1989 میں سوویت یونین کے خاتمے پر مغربی ممالک نے روسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا پر اپنا غلبہ قائم کیا اور دوسرے ممالک کے مشوروں کو سننا بھی گورا نہیں کیا۔گورباچوف نے کہا کہ مغرب ممالک نے نیٹو اتحاد میں توسیع، یوگوسلایہ، عراق، لیبیا، شام میں کارروائیوں اور یورپ میں دفاعی میزائل پروگرام سے روس کو ناراض کیا۔سوویت یونین کے سابق رہنما نے یورپ اور روس کیمابین کشیدگی کو ایک خراب زخم سے تشبیہ دی۔انھوں نے کہا :’ایک آبلہ اب پھوڑا بن بن چکا ہے۔اس سے سب سے زیادہ تکلیف کس کو ہو رہی ہے۔ جواب واضح ہے: یورپ۔‘
میخائل گورباچوف نے کہا کہ دنیا کو نئی سرد جنگ سے بچانے کے لیے یورپ کو روس کے ساتھ اعتماد کی فضا کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔یورپ بالخصوص امریکہ یوکرین میں حالات کو خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں۔نیٹو کی توسیع پسندانہ پالیسیوں نے یوکرین میں حالات کو خراب کیا۔مغربی ممالک کو روس کے ساتھ مذاکرات کیذریعے کشیدگی کو کم کرنا ہوگا۔یوکرین میں پیدا ہونے والے حالات نے مغربی طاقتوں اور روس کے مابین تعلقات کو انتہائی کشیدہ کر دیا ہے۔مغربی ممالک الزام عائد کرتے ہیں کہ روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسند یوکرین کے ٹکڑے کر رہے ہیں۔گورباچوف نے کہا کہ یورپ بالخصوص امریکہ یوکرین میں حالات کو خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ انھوں نے کہا نیٹو کی توسیع پسندانہ پالیسیوں نے یوکرین میں حالات کو خراب کیا۔سوویت یونین کے سابق رہنما نے مغرب ممالک کو مشورہ دیا کہ روس کے ساتھ اعتماد کی بحالی کے لیے روسی رہنماؤں پر عائد پابندیوں کو ختم کریں۔دیوار برلن کے خاتمے کی سلور جوبلی کی تقریبات میں شرکت کے لیے مشرقی یورپ سے لوگ وہاں پہنچ رہے ہیں۔ پولینڈ کے سابق صدر لیخ ولیسا بھی جرمنی پہنچے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…