ماسکو۔۔۔۔ سوویت یونین کے سابق رہنما میخائل گورباچوف نے کہا کہ دنیا ایک نئی سرد جنگ کے دہانے پر ہے اور اس کی ذمہ داری مغربی ممالک بالخصوص امریکہ پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے سوویت یونین کیخاتمے پر فاتحانہ انداز اپنا لیا تھا۔تراسی سالہ میخائل گورباچوف جرمنی کو دو ممالک میں تقسیم کرنے والے دیوارِ برلن کے گرنے کی سلور جوبلی تقریبات میں شرکت کے لیے جرمنی میں موجود ہیں۔
گورباچوف نیکہا:’ دنیا ایک اور سرد جنگ کے دہانے پر ہے، جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے یہ جنگ پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔‘میخائل گورباچوف نے کہا کہ اگر یورپ اور روس میں کشیدگی کشیدگی بڑھتی رہی تو دنیا میں طاقت کے دوسرے مراکز مزید طاقتور ہو جائیں گے اور یورپ بیاثر ہو کر رہ جائے گا۔میخائل گورباچوف نے کہا یورپ دنیا میں تبدیلی کا رہنما بننے کی بجائے سیاسی بدامنی کا اکھاڑ بن چکا ہے۔میخائل گورباچوف نے کہا کہ 1989 میں سوویت یونین کے خاتمے پر مغربی ممالک نے روسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا پر اپنا غلبہ قائم کیا اور دوسرے ممالک کے مشوروں کو سننا بھی گورا نہیں کیا۔گورباچوف نے کہا کہ مغرب ممالک نے نیٹو اتحاد میں توسیع، یوگوسلایہ، عراق، لیبیا، شام میں کارروائیوں اور یورپ میں دفاعی میزائل پروگرام سے روس کو ناراض کیا۔سوویت یونین کے سابق رہنما نے یورپ اور روس کیمابین کشیدگی کو ایک خراب زخم سے تشبیہ دی۔انھوں نے کہا :’ایک آبلہ اب پھوڑا بن بن چکا ہے۔اس سے سب سے زیادہ تکلیف کس کو ہو رہی ہے۔ جواب واضح ہے: یورپ۔‘
میخائل گورباچوف نے کہا کہ دنیا کو نئی سرد جنگ سے بچانے کے لیے یورپ کو روس کے ساتھ اعتماد کی فضا کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔یورپ بالخصوص امریکہ یوکرین میں حالات کو خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں۔نیٹو کی توسیع پسندانہ پالیسیوں نے یوکرین میں حالات کو خراب کیا۔مغربی ممالک کو روس کے ساتھ مذاکرات کیذریعے کشیدگی کو کم کرنا ہوگا۔یوکرین میں پیدا ہونے والے حالات نے مغربی طاقتوں اور روس کے مابین تعلقات کو انتہائی کشیدہ کر دیا ہے۔مغربی ممالک الزام عائد کرتے ہیں کہ روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسند یوکرین کے ٹکڑے کر رہے ہیں۔گورباچوف نے کہا کہ یورپ بالخصوص امریکہ یوکرین میں حالات کو خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ انھوں نے کہا نیٹو کی توسیع پسندانہ پالیسیوں نے یوکرین میں حالات کو خراب کیا۔سوویت یونین کے سابق رہنما نے مغرب ممالک کو مشورہ دیا کہ روس کے ساتھ اعتماد کی بحالی کے لیے روسی رہنماؤں پر عائد پابندیوں کو ختم کریں۔دیوار برلن کے خاتمے کی سلور جوبلی کی تقریبات میں شرکت کے لیے مشرقی یورپ سے لوگ وہاں پہنچ رہے ہیں۔ پولینڈ کے سابق صدر لیخ ولیسا بھی جرمنی پہنچے ہیں۔
دنیا ایک نئی سرد جنگ کے دہانے پر ہے، گورباچوف
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
یورپ میں شدید گرمی کے باوجود لوگ گھروں میں اے سی کیوں نہیں لگا سکتے؟
-
اسلام آباد کا نقشہ بدلنے والابڑا فیصلہ، نیا منصوبہ تیارکر لیا گیا
-
گلاس برج سے
-
لاہور،اسکول کے سکیورٹی گارڈ کی دوست کے ہمراہ خاتون ٹیچر کیساتھ اجتماعی زیادتی
-
سعودی عرب میں روزگار کیلیے مقیم غیرملکی ملازمین کو آخری ڈیڈ لائن دے دی گئی
-
سونے کی قیمت عالمی دباؤ کا شکار، ایک دہائی کی بدترین سہ ماہی کا خدشہ
-
پی ڈی ایم اے کا آندھی، بارشوں اور ژالہ باری کا الرٹ جاری
-
محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کر دی
-
سونا سستا ہوگیا؛ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت گر گئی
-
کابل زور دار دھماکوں سے گونج اٹھا،پورے شہر میں سیاہ بادل چھاگئے،ویڈیو وائرل
-
بلوچستان میں راستہ بھٹکنے والے کراچی کے تاجر کا ساتھ کب کیا ہوا؟ تفصیل سامنے آگئی
-
جیو نیوز کی 10 محرم کو نشر ہونیوالی ڈاکیومینٹری ’سفر عشق‘ کے حوالے سے وضاحت اور معذرت
-
جنوبی ایشیا کے مقروض ترین ممالک کی فہرست جاری، پاکستان کا کون سا نمبر ہے؟
-
موبائل فونز کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کی کمی کا امکان



















































