بدھ‬‮ ، 01 اپریل‬‮ 2026 

لپ سٹک کب ،کیوں اور کس نے ایجاد کی، جاننے کیلئے کلک کریں

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

ایمسٹرڈیم۔۔۔۔ ہزاروں سال پہلے قدیم مصری تہذیب میں فراعین کی ملکائیں بھی ہونٹوں پر سرخ رنگ کا استعمال کرتی تھیں۔ ان میں قلوپطرہ اور نفراتیتی بھی شامل ہیں۔ اس وقت سرخ رنگ کو چھوٹی چھوٹی ڈبیوں میں محفوظ رکھا جاتا تھا اور انگلی یا پھر برش کی مدد سے ہونٹوں پر لگایا جاتا تھا۔ اس وقت یہ عقیدہ تھا کہ ہونٹوں پر رنگ لگانے سے شیطانی قوتیں انسان کے جسم میں نہیں گھس سکتیں۔ سولہویں صدی میں انگلستان میں سفید پاوڈر سے چہرے کو سفید اور سرخ رنگ سے ہونٹ رنگنا اشرافیہ طبقے کا معروف فیشن تھا۔ ایمسٹرڈیم میں انیسویں صدی کی فرنچ اداکارہ سارا بیرنارٹ نے لِپ سٹک والے پین کو ’محبت کا قلم‘ قرار دیا تھا۔ تب سے لپ سٹک نے نہ صرف عورت کی ظاہری شکل کو تبدیل کیا ہے بلکہ اس کے معاشرتی کرادر پر بھی اثر انداز ہوئی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق لپ سٹک کی موجودہ شکل کو پہلی مرتبہ 131 برس پہلے متعارف کروایا گیا تھا۔ ابتدا میں لِپ سٹک نہ صرف مہنگی بلکہ ایک لگڑری آئٹم تھی۔ عوامی سطح پر اس کو پذیرائی گزشتہ صدی میں بیس کی دہائی میں خاموش فلموں کے دور میں ملی۔ رپورٹ کے مطابق اس سے قطع نظر کہ ملک غریب ہو یا امیر، دنیا بھر میں خواتین میک اپ میں لِپ سٹک کو خاص اہمیت دیتی ہیں اور یہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والا میک اپ کا آئٹم ہے۔ 1883ء4 میں پہلی مرتبہ لِپ سٹک کی موجودہ شکل کو ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم میں ہونے والی ایک عالمی نمائش میں متعارف کروایا گیا۔ ایمسٹرڈم کی نمائش کے چند ماہ بعد لِپ سٹک کی تجارتی بنیاد پر دریافت میں پیرس کے خوشبو ساز ادارے کے دو ماہرینِ کاسمیٹک شامل تھے۔ 1884ء4 میں پیرس میں پہلی مرتبہ لِپ سٹک کو میک اپ کے ایک اہم جزو کے طور پر کمرشل انداز میں متعارف کروایا گیا تھا۔ شروع میں اس کو مشکوک نظروں سے دیکھا گیا اور اس کا استعمال صرف اداکارائیں اور رقاصائیں کرتی تھیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 1912ء4 میں امریکا کی فیشن ایبل خواتین نے لِپ سٹک کو قبول کر لیا تھا۔ یورپ میں فیشن ایبل خواتین نے امریکی خواتین کے لِپ سٹک استعمال کرنے کے نو سال بعد اسے اپنانا شروع کیا تھا۔ 1921ء ایک ایسا سال تھا جب لندن کی خواتین نے اسے پسند کرنا شروع کیا اور یہی اس کی عام مقبولیت کا باعث بنا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…