جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

ہماری پرسکون نیند کیلئے راتوں کو جاگنے والے جوان ہمارافخرہیں، رابی پیرزادہ نے فوجی جوانوں کو ہیروز قرار دیدیا

datetime 17  جنوری‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی)شوبز کو خیر باد کہنے والی سابقہ اداکارہ و گلوکارہ رابی پیرزادہ نے کہا ہے کہ موسم کی شدت کی پرواہ کئے بغیر ملکی سرحدوں اورعوام کی حفاظت کرنے والے پاک فوج سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اورجوان ہمارافخر ہیں ، پاکستانی قوم اپنے ہیروز کو سلام پیش کرتی ہے اور ان کی پشت پر

کھڑی ہے۔ ایک انٹرویومیں رابی پیرزادہ نے کہا کہ پاک فوج سمیت دیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اورجوان ہماری پرسکون نیند کیلئے راتوں کو جاگتے ہیں ،پھر اپنے ان افسران اورجوانوں پر کیوں فخرنہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی وجہ سے آج دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیںدیکھ سکتا اورانشااللہ ملک میں چھپے ہوئے دہشتگردوں کو بھی نشان عبرت بنائیںگے۔دوسری جانب معروف گلوکارہ حدیقہ کیانی کہتی ہیں کہ وہ زندگی میں کئی بار مایوس ہوئیں لیکن اسے خود پر سوار نہیں کیا۔غیر ملکی ویب سائیٹ کو دیئے گئے انٹرویو میں حدیقہ کیانی کا کہنا تھا کہ میں زندگی میں کئی بار مایوس ہوئی لیکن میں نے مایوسی کو سر پہ سوار نہیں کیا، کبھی مایوسی سر پر سوار ہوتی بھی ہے تو خاموش ہو جاتی ہوں، رونا دھونا پسند نہیں کرتی لیکن اگر کبھی روئی بھی ہوں تو اکیلے میں روئی ہوں۔ میں حقیقت کو جلد ہی قبول کر لیتی ہوں اسی لیے تو محرومیاں میرے سر پر سوار نہیں ہوتیں۔شادی کے حوالے سے گلوکارہ کا کہنا تھا کہ شادی کے رشتے میں اگر اعتماد، ذہنی ہم آہنگی اور عزت نہ ہو ایسا رشتہ اس ستون کی طرح ہوتا ہے جسے ہوا کا کوئی بھی جھونکا گرا سکتا ہے اور جس رشتے میں یہ تمام خاصیتیں ہوں اسے دنیا کی کوئی بھی طاقت خراب نہیں کر سکتی۔ دکھ اور تکلیف دہ رشتے کو چلا کر یہ نہ سمجھیں

کہ کامیابی ہے، غلط شریک سفر کے ساتھ چل کر اس رشتے کو کینسر کی طرح پالنے سے بہتر ہے کہ اس سے نکل جائیں۔ اور ایسا بھی نہ سوچیں کہ فلاں انسان میری زندگی میں نہ رہا تو زندگی برباد ہو جائے گی۔ میرا دو شادیوں کا تجربہ کامیاب نہیں رہا لیکن اگر اللہ کو منظور ہوگا اور اس کی مرضی ہو گی تو میری کیا مجال ہو گی کہ میں انکار کروں۔نجی چینل کے ڈرامے کے ذریعے بحیثیت اداکارہ اپنے کیرئیر کا آغاز کرنے پر حدیقہ کیانی نے کہا

کہ کردار کو نبھانے کے لیے ایک مہینہ پہلے ہی گھر میں شلوار قمیض پہننا شروع کر دی تھی۔ سوچتی تھی کہ اس کردار کا بچپن کیسا ہوگا اس کے جذبات کیسے ہوں گے، شوٹنگ کے دوران بہت بار ایسا ہوا کہ میں خود پر قابو نہ رکھ سکی، آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ ایک دم سیٹ پر سناٹا سا چھا گیا اور نارمل ہونے تک مجھے اکیلا چھوڑ دیا گیا، ایسے وقت میں ثانیہ سعید اور نعمان اعجاز نے مجھے سمجھایا کہ کسی بھی کردار کو کرنے کے لیے اس میں ڈوب جانا بہت اچھی بات ہوتی ہے لیکن کسی کردار میں ہی پھنس کے رہ جانا مناسب نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…