جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

طویل خاموشی کے بعد خلیل الرحمان قمرکی پھرواپسی آتے ہی ایک اور متنازعہ بیان دیدیا

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی )نامور رائٹر و ڈائریکٹر خلیل الرحمان قمرنے کہا ہے کہ میں اپنے لکھے ہوئے کی حفاظت کرتا ہوں تو لوگ مجھے بدلحاظ سمجھتے ہیں ،میں اپنے اوپر ہونے والی تنقید کو تنقید نہیں بلکہ حسد کہتا ہوں اور مجھے ایسے لوگوں پر ترس آتا ہے ،ایسے لوگوں کو بیمار کہتا ہوں اور

بیماروں کی صحتیابی کے لئے دعا کرنی چاہیے۔ایک انٹر ویو میںخلیل الرحمان قمر نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ میرے ڈائیلاگز میں لفاظی بہت زیادہ ہوتی ہے ان سے اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ میں تو عام حالات میں عامیانہ بات نہیں کرتا تو لکھتے ہوئے کیسے کروں گا؟ اگر کسی میں میرے ڈائیلاگز کوسمجھنے کی اہلیت نہیں ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ ڈائیلاگ نہیں لفاظی ہے تو وہ دراصل اپنی کم عقلی کو کوس رہا ہوتا ہے۔ صاف سی بات ہے جو میرا لکھا ہوا سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے میں ان کے لیے لکھتا بھی نہیں ہوں۔اپنے سکرپٹ کے حوالے سے انہوںنے کہا کہ جہاں تک میرے لکھے ہوئے میں تبدیلی کی بات ہے تو کسی کی جرات نہیں کہ وہ میرے لکھے ہوئے میں تبدیلی کرے۔ اگر اداکاراس قابل ہیں کہ وہ لکھ سکتے ہیں تو وہ لکھیں میں ایکٹنگ کر لیتا ہوں لیکن میرے لکھے ہوئے میں اگر تبدیلی کرنے کی کوئی بھی کوشش کرے گا تو وہ دوبارہ میرے کسی بھی ڈرامے یا فلم میں نظر نہیں آئے گا۔ یہ بد نصیبی نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک آدمی جو اپنے لکھے ہوئے سکرپٹ کی حفاظت کرے تو اس کو بد لحاظ کہا جائے۔ میری لائنیں شاعرانہ ہوتی ہیں ان کا زرا سا بھی ردھم توڑ دیا جائے تو سین کا بیڑا غرق ہوجاتا ہے لہٰذامجھے غصہ دکھانا پڑتا ہے اب اس غصے کو جو بھی نام دے دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…