جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

انڈین سینما پر ایک بار پھرنقل کا الزام

datetime 4  ستمبر‬‮  2019 |

ممبئی( آن لائن )انڈیا کے سینما کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ ان کی کہانی امریکی فلم انڈسٹری ہالی وڈ کی فلموں کی نقل ہوتی ہے۔ حال ہی میں فلم ساہو کو اسی قسم کی تنقید کا سامنا ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کے کچھ حصے اور کہانی ایک فرانسیسی فلم سے نقل کیے گئے ہیں۔حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ساہو دیکھنے کے بعد کئی ٹوئٹر صارفین نے 2008 کی فرانسیسی فلم لارگو ونچ کے ڈائریکٹر جیغوم سال کو ٹوئٹر پر کہا کہ یہ فلم ان کی بنائی گئی فلم سے مماثلت رکھتی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…