اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان میں معدنی وسائل کے وسیع ذخائر عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے لگے ہیں۔ او جی ڈی سی ایل کی رپورٹ کے مطابق ملک میں اب تک 92 اقسام کی معدنیات دریافت کی جا چکی ہیں، جن میں سے 52 کو تجارتی بنیادوں پر نکالا جا رہا ہے، جبکہ مجموعی معدنی ذخائر کی تخمینی مالیت 8 ٹریلین ڈالر بتائی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان قدرتی معدنی وسائل کے اعتبار سے نمایاں صلاحیت رکھتا ہے، تاہم ان ذخائر سے بھرپور معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس وقت معدنی شعبے کا ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) میں حصہ 3 فیصد سے بھی کم ہے۔
او جی ڈی سی ایل کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، مؤثر حکمت عملی، سرمایہ کاری میں اضافے اور معدنی ذخائر کی تلاش و ترقی پر توجہ دے کر اس شعبے کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی موجودہ معدنی برآمدات تقریباً 3 ارب ڈالر سالانہ ہیں، جنہیں مناسب منصوبہ بندی کے ذریعے بڑھا کر 8 ارب ڈالر تک لے جانے کی گنجائش موجود ہے۔
ریکوڈک منصوبہ معدنی شعبے کے لیے اہم پیش رفت
رپورٹ میں بلوچستان کے ریکوڈک منصوبے کو پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے بڑے منصوبوں میں شامل قرار دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کو ملک کے معدنی وسائل کی ترقی اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
او جی ڈی سی ایل کی رپورٹ کے مطابق ریکوڈک منصوبے کے پہلے مرحلے میں پیداوار کا آغاز 2028 کے اختتام تک متوقع ہے۔ منصوبے سے ہر سال تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار ٹن تانبا اور 2 لاکھ 97 ہزار اونس سونا حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
اہم معدنیات کی ترقی کے لیے امریکی کمپنی سے معاہدے
رپورٹ کے مطابق پاکستان اور امریکی کمپنی یو ایس اسٹریٹجک میٹلز کے درمیان اہم معدنیات کی ترقی کے سلسلے میں معاہدے بھی کیے گئے ہیں۔ ان معاہدوں کو معدنی شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری لانے اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی بڑھانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 کا انعقاد
پاکستان کے معدنی وسائل کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھانے کے لیے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 بھی منعقد کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر معدنی ذخائر کی تلاش، ترقی اور تجارتی استعمال کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تو یہ شعبہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق معدنی صنعت میں سرمایہ کاری بڑھنے سے برآمدات میں اضافہ، درآمدات پر انحصار کم کرنے اور روزگار سمیت معاشی سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔



















































