اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں طلبہ و طالبات کو ایک لاکھ الیکٹرک موٹر سائیکلیں فراہم کرنے کا عمل 5 نومبر سے شروع کیا جائے گا،
جن میں زیادہ حصہ طالبات کے لیے مختص ہوگا۔ اسکیم کے تحت درخواستوں کی جانچ پڑتال جاری ہے، جبکہ موٹر سائیکل چلانے سے ناواقف طلبہ کو مفت ڈرائیونگ تربیت بھی دی جائے گی۔
ساہیوال میں ہونہار اسکالرشپ اور لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ الیکٹرک بائیک اسکیم کا بنیادی مقصد طلبہ، بالخصوص طالبات کو آمدورفت میں سہولت فراہم کرنا اور انہیں خودمختار بنانا ہے۔ ان کے مطابق طالبات کو تعلیمی اداروں یا دیگر مقامات پر جانے کے لیے والدین اور بہن بھائیوں کے انتظار کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اسکیم کے لیے اب تک 12 لاکھ سے زائد رجسٹریشنز اور چار لاکھ سے زیادہ درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ متعلقہ حکام درخواستوں کی جانچ میں مصروف ہیں اور 5 نومبر سے بائیکس کی فراہمی کا پہلا مرحلہ شروع کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اسکیم کے تحت طالبات کو گلابی جبکہ طلبہ کو سیاہ رنگ کی الیکٹرک بائیکس دی جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جن نوجوانوں کو موٹر سائیکل چلانے کا تجربہ نہیں، ان کے لیے ضلعی پولیس اور ٹریفک حکام کے تعاون سے کم از کم دو روزہ مفت ڈرائیونگ کورس کا انتظام کیا جائے گا، تاکہ وہ بائیکس ملنے کے بعد محفوظ انداز میں سفر کر سکیں۔
مریم نواز نے حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے ان کی حکومت سے توقعات وابستہ کر رکھی ہیں، اس لیے حکومتی ٹیم کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان توقعات پر پورا اترنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
ہونہار طلبہ کے لیے تعلیمی سہولیات
ہونہار اسکالرشپ اور لیپ ٹاپ اسکیموں پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسی بھی قابل اور محنتی طالب علم کو مالی مشکلات کے باعث اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم مستحق طلبہ کی معاونت حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وسائل پر نوجوانوں کا بھی حق ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ انہیں تعلیم اور ترقی کے یکساں مواقع میسر آئیں۔ مریم نواز کے مطابق اسکالرشپس اور لیپ ٹاپ کی تقسیم کے دوران میرٹ کو بنیادی اہمیت دی گئی، نہ کسی سیاسی شخصیت یا سرکاری افسر کی سفارش کو ترجیح دی گئی اور نہ ہی طلبہ سے ان کی سیاسی وابستگی کے بارے میں سوال کیا گیا۔
طالبات کی حوصلہ افزائی پر زور
وزیراعلیٰ نے والدین اور بھائیوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کی صلاحیتوں پر اعتماد کریں اور انہیں تعلیم سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کا موقع دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندانی تعاون سے لڑکیاں اپنے اہداف حاصل کرنے اور معاشرے میں نمایاں مقام بنانے کے قابل ہو سکتی ہیں۔
تقریب میں طلبہ کی بڑی تعداد کی شرکت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مریم نواز نے نوجوانوں کے جذبے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے پُرعزم چہرے اور ان کا جوش انہیں پاکستان کے روشن مستقبل کے حوالے سے امید دلاتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ لاہور میں بارش کے باعث ہیلی کاپٹر کے ذریعے سفر ممکن نہ رہا، تاہم طلبہ کو انتظار سے بچانے کے لیے انہوں نے سڑک کے راستے ساہیوال پہنچنے کا فیصلہ کیا۔



















































