جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

نئی آٹو پالیسی میں گاڑیوں پر ٹیکس کمی کی بڑی تجاویز سامنے آگئیں

datetime 11  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت کی جانب سے تیار کی جانے والی نئی آٹو پالیسی میں ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی میں نمایاں تبدیلیوں کی تجاویز سامنے آگئی ہیں، جن پر عملدرآمد کی صورت میں بعض گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے آٹو پالیسی 2026 سے 2031 کے ابتدائی مسودے کی منظوری دے دی ہے، تاہم پالیسی کو حتمی شکل دینے سے قبل مزید ترامیم اور بعض نکات میں تبدیلی کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

حکومت نے نئی پالیسی میں جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، ملک کے اندر گاڑیوں کی تیاری بڑھانے اور ہنرمند پاکستانیوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کو ترجیح دینے کی ہدایت کی ہے۔

مجوزہ پالیسی کے تحت چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس میں مزید کمی کی تجویز شامل ہے، جبکہ مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے پرزہ جات کے لیے رعایتی سیلز ٹیکس ایک فیصد رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پالیسی دستاویز میں الیکٹرک گاڑیوں کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور ایڈوانس انکم ٹیکس سے استثنیٰ دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ دوسری جانب ہائبرڈ گاڑیوں کو حاصل موجودہ سیلز ٹیکس مراعات ختم کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال اور پرزہ جات پر کسٹمز ڈیوٹی کی شرح ایک فیصد رکھنے کی تجویز ہے، جس کا مقصد ملک میں چارجنگ انفرااسٹرکچر کو وسعت دینا ہے۔

مجوزہ آٹو پالیسی میں ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمدی ڈیوٹی کو بھی مرحلہ وار کم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ہائبرڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی 50 فیصد سے گھٹا کر 30 فیصد، جبکہ ہائبرڈ ٹرکوں اور بسوں پر یہ شرح 30 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

اسی طرح ہائبرڈ لائٹ کمرشل گاڑیوں کی درآمد پر عائد ڈیوٹی 60 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد کرنے کی تجویز بھی پالیسی کا حصہ ہے۔

حکومت کے مطابق ان اقدامات کا بنیادی مقصد آٹو سیکٹر میں جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینا، مقامی پیداوار میں اضافہ، سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا اور روزگار کے امکانات بڑھانا ہے۔ تاہم گاڑیوں کی قیمتوں پر حتمی اثر پالیسی کی منظوری اور اس کے عملی نفاذ کے بعد ہی واضح ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اکتوبر میں نئی آٹو پالیسی کے مختلف نکات پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بھی مشاورت کرے گی، جس کے بعد مجوزہ پالیسی میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…