منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کےججز کی تنخواہ اورالاؤنسز بڑھا کر31لاکھ 50 ہزار روپے ماہانہ کر دیے گئے

datetime 14  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت کی سفارش پر صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے سمری کی منظوری کے بعد

سپریم کورٹ ججز کی تنخواہیں اور مراعات وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے برابر کردی گئیں، ہائیکورٹ ججز کی بنیادی تنخواہوں میں بھی اضافہ کردیا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق اعلی عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور الائونسز میں اضافے کا اطلاق 10دسمبر2025ء سے ہوگا، گزشتہ مدت کا مالی فائدہ بھی سپریم کورٹ ججز کو دیا جائے گا، اضافے کے بقایا جات بھی ادا کیے جائیں گے۔چیف جسٹس پاکستان کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 15لاکھ 50ہزار روپے مقرر کردی گئی، سپریم کورٹ کے دیگر ججز کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 15لاکھ روپے ہوگی، سپریم کورٹ ججز کی بنیادی تنخواہ 11لاکھ سے بڑھا کر 15لاکھ روپے کردی گئی۔سپریم کورٹ ججز کے جوڈیشل الانس میں بھی نمایاں اضافہ کردیا گیا، جوڈیشل الائونس 11لاکھ 61ہزار 163روپے سے بڑھا کر 15لاکھ روپے مقرر کردیا گیا۔جوڈیشل الانس میں تقریبا 3لاکھ 39 ہزار روپے ماہانہ اضافہ ہوگیا۔سپریم کورٹ ججز کے پنشن پیکج میں بھی اہم تبدیلیاں کردی گئیں، پنشن سے متعلق شق میں 70سال کی حد بڑھا کر 75 سال کردی گئی، متعلقہ شق میں 85سال کی حد بھی بڑھا کر 90سال کردی گئی،

سپریم کورٹ ججز کیلئے ماہانہ 1لاکھ 50ہزار روپے میڈیکل الانس بھی مقرر کردیا گیا۔ہائیکورٹ ججز کی بنیادی تنخواہوں میں بھی اضافہ کردیا گیا، ہائیکورٹ ججز کی نئی تنخواہوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، ہائیکورٹ چیف جسٹس کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 12لاکھ 54 ہزار روپے مقرر کردیا گیا، ہائیکورٹ کے دیگرججز کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 12لاکھ 5 ہزار روپے ہوگی۔ہائیکورٹ ججز کی تنخواہ 10لاکھ 95ہزار سے بڑھا کر 12لاکھ 5ہزار روپے کی گئی، ہائیکورٹ ججز کی بنیادی تنخواہ میں 1لاکھ 10ہزار روپے ماہانہ اضافہ کردیا گیا۔دو سال سے زائد عرصہ چیف جسٹس رہنے والوں کیلئے نئی سہولت متعارف کرادی گئی، ریٹائرمنٹ یا اعلی عدالت میں ترقی کی صورت میں گاڑی رعایتی قیمت پر خریدنے کی اجازت ہوگی، ریٹائرڈ ججز کو وفاقی حکومت کے ثالثی معاملات میں فیس کی اجازت بھی مل سکے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…