اتوار‬‮ ، 01 ‬‮نومبر‬‮ 2026 

سولر پینلز کی آڑ میں 120 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا انکشاف

datetime 25  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے 120ارب روپے کے سولر پینل اوورانوائسنگ منی لانڈرنگ کیس میں ملوث تمام افراد کے خلاف فوری قانونی کاروائی کی ہدایت کردی گئی ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم کی جانب سے 2017 سے 2022 تک جاری رہنے والی اس غیر قانونی اسکیم پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جس میں متعدد اداروں کی غفلت کی نشاندہی سامنے آئی ہے۔وزیراعظم نے اس اسکینڈل میں ملوث یا غفلت برتنے والے تمام سرکاری افسران کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف بلا تاخیر محکمانہ کاروائی کا حکم دیا گیا ہے۔ احتساب کو یقینی بنانے کے لیے وزیر اعظم آفس کی جانب سے تادیبی کاروائی اور قانونی چارہ جوئی کی نگرانی کے لیے دو اعلی سطحی کمیٹیاں تشکیل دیدی گئی ہیں۔اوور انوائسنگ میں سہولت کاری کرنے والے متعلقہ اداروں کے افسران اور اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی نگرانی کے لیے ”کمیٹی برائے تادیبی کاروائی”قائم کردی گئی ہے۔ تادیبی کاروائی کی کمیٹی کی سربراہی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن جبکہ کمیٹی ممبران میں اسٹیٹ بینک، ایف بی آر، ایف آئی اے اور آئی بی کے سینئر افسران کو شامل کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔سولر پینلز کی اوورانوائسنگ سے منسلک ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کے مقدمات کی تحقیقات اور قانونی کاروائی میں معاونت کے لیے مانیٹرنگ انویسٹی گیشن اینڈ پراسیکیوشن کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس پاکستان کسٹمز جبکہ کمیٹی ممبران میں اینٹی منی لانڈرنگ اتھارٹی، چیف کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد ایف آئی اے اور آئی بی کے سینئر افسران کو شامل کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

مذکورہ دونوں کمیٹیاں ہر پندرہ روز بعد اپنی کارکردگی اور پیشرفت کی رپورٹ وزیرِ اعظم آفس کو جمع کرانے کی پابند ہوں گی۔وزیرِ اعظم کی جانب سے وزیرِ قانون کو ان مقدمات کی پیروی کے لیے کراچی اور اسلام آباد میں دو قابل وکلا کو خصوصی پراسیکیوٹرز نامزد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایف بی آر کے ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ نے 120ارب روپے مالیت کی درآمدکنندگان کی اوور انوائسنگ کے ذریعے فنڈز بیرون ملک منتقل کرنے کا یہ بڑا اسکینڈل بے نقاب کیا تھا۔جس کے بعد کسٹمز ایڈجوڈیکیشن اتھارٹی نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں جعلی کمپنیوں پر الزامات ثابت ہونے کے بعد 111 ارب روپے کے جرمانے عائد کر دیے ہیں۔ کمپنیوں کے علاہ افراد پر الگ سے جرمانے بھی کیے گئے ہیں۔احتسابی کاروائی کے اگلے مرحلے میں جرمانوں کی وصولی، غیر قانونی کمائی سے بنائے گئے اثاثوں کی ضبطگی اور تجارتی منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے نظام میں اصلاحات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔وزیر اعظم آفس کے جاری کردہ خط کے مطابق یہ اقدامات صرف نجی افراد و کمپنیوں کو ہی نہیں بلکہ سرکاری افسران کو بھی کڑے احتساب کے دائرے میں لاتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Mind The Gape


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مرنے کے علاوہ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

درگزر کیا کریں

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…