لاہور( این این آئی) پنجاب حکومت نے اسٹرکچر پلان روڈز کے اطراف زمین خرید کر باقی اراضی کو مفت کمرشل کرانے کی پالیسی ختم کر دی ۔
اس حوالے سے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی لینڈ یوز رولز 2020کے رول 37سب رول 9میں بڑی ترمیم کر کے گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ۔نئے قوانین کے مطابق اب کوئی بھی سرمایہ کار یا زمین مالک مفت کمرشل پالیسی سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا، جبکہ ڈویلپرز اور ہائوسنگ سوسائٹی مالکان بھی اس سہولت سے مستفید نہیں ہو سکیں گے۔نئے رولز کے تحت مین روڈز اور مسنگ لنکس کے لیے ایل ڈی اے ہر صورت اراضی ایکوائر کرے گا اور اسٹرکچر پلان روڈز بننے کی صورت میں بھی زمین حکومت کو حاصل کرنا ہوگی، مفت کمرشل کی سہولت نہیں دی جائے گی۔ماضی میں اس پالیسی کے تحت کئی سرمایہ کار اسٹرکچر پلان روڈز کے قریب سستی زمین خرید کر باقی زمین کو کمرشل کروا لیتے تھے اور کروڑوں روپے کماتے تھے، تاہم اب قوانین میں تبدیلی سے یہ راستہ بند کر دیا گیا ہے۔
خصوصی طور پر زیر تعمیر پائن ایونیو ایکسٹینشن ، نیلم روڈ اور دیگر لنک روڈز پر زمین خریدنے والے سرمایہ کار اس پالیسی سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔قوانین میں تبدیلی کے بعد ایک طرف سرمایہ کاروں کو نقصان ہوگا تو دوسری طرف ایل ڈی اے کو سڑکوں کے لیے اراضی خریدنے کی مد میں اربوں روپے ادا کرنا ہوں گے، جس سے نئے اسٹرکچر پلان روڈز اور مسنگ لنکس مکمل کرنے میں مالی دبا بھی بڑھنے کا امکان ہے۔



















































