اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ملک بھر کی مختلف کسٹمز کلیکٹریٹس میں اربوں روپے مالیت کا ضبط شدہ سونا اور چاندی اسٹیٹ بینک میں جمع نہ کرانے کا معاملہ سامنے آیا ہے،
جس پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق طویل عرصے سے برآمد شدہ قیمتی دھاتیں متعلقہ کلیکٹریٹس کے لاکرز میں محفوظ تھیں اور انہیں اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں شامل نہیں کیا گیا تھا، جس کے باعث یہ مالیت قومی خزانے کے ریکارڈ میں بھی ظاہر نہیں ہو رہی تھی۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ مناسب نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے بعض مقامات پر لاکرز میں موجود سونے اور چاندی میں ردوبدل یا چوری کے خدشات پیدا ہوئے۔اس صورتحال کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تمام انفورسمنٹ اور ایئرپورٹ کلیکٹریٹس کو ہدایت جاری کی ہے کہ ضبط شدہ سونے اور چاندی کا مکمل ڈیٹا فوری طور پر فراہم کیا جائے۔ موجودہ ممبر کسٹمز آپریشن سید شکیل شاہ کی ہدایات پر ملک بھر کی فیلڈ فارمیشنز نے تفصیلات اکٹھی کرنا شروع کر دی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں اب تک پشاور کسٹمز کلیکٹریٹ کی جانب سے تقریباً ڈیڑھ ارب روپے مالیت کا سونا جمع کرا دیا گیا ہے، جس سے قومی خزانے کو خاطر خواہ فائدہ پہنچا ہے۔ مزید کلیکٹریٹس سے بھی ریکارڈ اور جمع کرانے کا عمل جاری ہے۔



















































