اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان اسٹیل ملز سے قیمتی سامان کی بڑے پیمانے پر چوری کے معاملے میں مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چوری شدہ سامان پولیس کی گاڑی کے ذریعے کباڑیوں کو فروخت کیا جا رہا تھا۔اسٹیل ملز ورکرز یونین کے ایک رہنما نے الزام لگایا ہے کہ تھانہ بن قاسم کی موبائل اس غیر قانونی سرگرمی میں استعمال ہو رہی تھی اور پولیس اہلکار مبینہ طور پر چوروں اور اسکریپ ڈیلرز سے ملے ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیشل برانچ ملیر کی ایک سابقہ رپورٹ میں بھی متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او سمیت بعض افسران کو ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ طویل عرصے سے بند پڑی مل سے روزانہ لاکھوں روپے مالیت کا سامان غائب ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں لوہا، تانبا، چاندی اور بجلی و گیس سے متعلق آلات شامل بتائے جاتے ہیں۔
دوسری جانب ویڈیو سامنے آنے کے بعد اسٹیل ٹاؤن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اسکریپ سے لدی ایک گاڑی تحویل میں لے لی اور دو افراد، محمد کاشف اور عمر علی، کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان چوری شدہ دھات فروخت کرنے جا رہے تھے اور روکنے پر فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم انہیں پکڑ لیا گیا۔ گاڑی سے تقریباً 70 کلو کاپر بھی برآمد ہوا، جبکہ گرفتار افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔



















































