جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

گولڈن ویزا کی شرائط میں نرمی

datetime 1  دسمبر‬‮  2025 |
minimum-investment-requirement-for-bahrain-golden-visa-from-december-2025
minimum-investment-requirement-for-bahrain-golden-visa-from-december-2025

بحرین (انٹرنیشنل ڈیسک) بحرین نے گولڈن ویزا حاصل کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی کم از کم شرائط میں 35 فیصد کمی کر دی ہے، جس سے غیر ملکیوں کے لیے ملک میں قیام کے مواقع آسان ہو گئے ہیں۔ بحرین کی وزارت داخلہ کے قومی شہریت، پاسپورٹس اور رہائشی امور کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ اب سرمایہ کاری کی کم از کم حد 2 لاکھ بحرینی دینار سے کم کر کے 1 لاکھ 30 ہزار بحرینی دینار کر دی گئی ہے۔ اس کے بعد وہ افراد جو 130,000 بحرینی دینار مالیت کی جائیداد کے مالک ہیں، گولڈن ویزا کے لیے درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔

گولڈن ویزا مختلف زمروں کے افراد کے لیے دستیاب ہے، جن میں رئیل اسٹیٹ سرمایہ کار، وہ پیشہ ور افراد جو ماہانہ 2,000 بحرینی دینار یا اس سے زیادہ کماتے ہیں، 15 سال سے بحرین میں کام کرنے والے ریٹائرڈ افراد، غیر مقیم ریٹائرڈ افراد جن کی پنشن 4,000 بحرینی دینار یا اس سے زیادہ ہے، اور وہ باصلاحیت افراد شامل ہیں جو ملکی معیشت میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ درخواست دہندگان وزارت کے پورٹل کے ذریعے درخواست جمع کرائیں گے اور اس کے لیے درست پاسپورٹ، چھ ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹس، صحت کی انشورنس اور رہائش کے ثبوت فراہم کرنا لازمی ہوں گے۔

درخواست کی فیس 5 بحرینی دینار جبکہ ویزا جاری کرنے کی فیس 300 بحرینی دینار ہے۔گولڈن ویزا ہولڈرز بحرین میں کسی بھی جگہ کام کر سکتے ہیں، غیر محدود داخلے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اپنے زیر کفالت افراد کو اسپانسر کر سکتے ہیں اور مکمل کاروباری ملکیت کے حقوق کے حامل ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…