ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

مرغی کے گوشت کی قیمت میں بڑا اضافہ

datetime 6  اپریل‬‮  2025 |

راولپنڈی(این این آئی)رمضان المبارک کے بعد بھی مہنگائی کم نہ ہو سکی، ملک بھر میں گوشت اور مرغی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔راولپنڈی میں برائلر چکن کا گوشت 900 روپے فی کلو میں مل رہا ہے،بڑے گوشت کا سرکاری نرخ 800 روپے فی کلو مقرر ہے مگر اوپن مارکیٹ میں یہ گوشت 1400 سے 1500 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔چھوٹے گوشت کا سرکاری نرخ 1600 روپے فی کلو ہے تاہم یہ اوپن مارکیٹ میں 2200 سے 2300 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔

راولپنڈی میں برائلر زندہ چکن کا سرکاری نرخ 412 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے تاہم اوپن مارکیٹ میں یہ زندہ چکن 540 سے 580 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔ پنجاب حکومت نے برائلر مرغی کے گوشت کے بجائے صرف زندہ چکن کے نرخ مقرر کیے ہیں۔کراچی میں بھی گوشت کی من مانی قیمتوں پر فروخت جاری ہے۔ بکرے کا گوشت 2000 روپے فی کلو سرکاری نرخ کے بجائے 2500 سے 2800 روپے فی کلو میں دستیاب ہے۔

بچھیا کا بغیر ہڈی گوشت 1150 روپے کی بجائے 1600 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ بچھیا کا ہڈی والا گوشت 1000 روپے کے بجائے 1400 روپے فی کلو میں دستیاب ہے۔کراچی میں مرغی کا گوشت بھی سرکاری نرخوں سے مہنگا فروخت ہو رہا ہے۔ 650 روپے فی کلو کا مرغی کا گوشت اب 750 روپے فی کلو میں مل رہا ہے۔پشاور میں بھی گوشت، قیمہ، دالیں، پھل، سبزیاں ودیگر اشیائ خورونوش کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔ بڑا گوشت 1200 روپے، مٹن 2200 روپے، دودھ 240 روپے اور دہی 250 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ مرغی کی فی کلو قیمت 550 روپے اور پھل و سبزی کی قیمتیں بھی کم نہ ہو سکیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…