ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

اسٹیٹ بینک نے الیکٹرانک پیمنٹ کے 4مالی اداروں کو لائسنس جاری کردیئے

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پاکستان میں الیکٹرانک پیمنٹس کے بڑھتے رجحان کو دیکھتے ہوئے الیکٹرانک پیمنٹ کے 4مالی اداروں کو لائسنس جاری کردیئے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق لائسنس لینے والے ادارے چھ ماہ میں پائلٹ پراجیکٹ مکمل کریں گے الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز، پیمنٹ سسٹم آپریٹر اور پیمنٹ سسٹم پرووائیڈر کے قیام کی اصولی منظوری دی گئی۔

الیکٹرانک پیمنٹس کے تین ادارے پائلٹ پراجیکٹ مکمل کرنے کے مرحلے میں ہیں جبکہ تین ٹیکنالوجی مالی فرمز کے پاس پائلٹ آپریشنز کی منظوری موجود ہے۔ پاکستان میں اس وقت چار ادارے الیکٹرانک پیمنٹس کے آپریشنز کر رہے ہیں۔اسٹیٹ بینک کے مطابق ستمبر 2024تک ملک میں 42لاکھ ای والٹس اکاؤنٹ کھل چکے ہیں جبکہ ای والٹس سے 46لاکھ ادائیگی کارڈ جاری ہوچکے ہیں، ای والٹس کے ذریعے 232ارب روپے کی 8کروڑ 21لاکھ پیمنٹس ہوچکی ہیں۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ای والٹس کے ذریعے سالانہ بنیاد پر اکاؤنٹس اور ادائیگی میں بالترتیب 163اور 117فیصد اضافہ ہوا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…