جمعہ‬‮ ، 04 ستمبر‬‮ 2026 

اسلامک بینکنگ کے نام پر عوام سے فراڈ کا انکشاف

datetime 28  اگست‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)ملک کے ایوان بالا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں اسلامک بینکنگ کے نام پر عوام سے فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں ڈیپازٹ پروٹیکشن ترمیمی ایکٹ کا جائزہ لیا گیا، اس کے بعد قائمہ کمیٹی نے ڈیپازٹ پروٹیکشن کارپوریشن ترمیمی بل 2024 منظور کرلیا۔

منظور کردہ بل کے تحت بینکوں میں اکاؤنٹ ہولڈرز کی فی اکاؤنٹ 5 لاکھ روپے تک کی رقم کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا اور دکیتی، غبن، فراڈ یا کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بینک صارفین کو 5 لاکھ روپے ادا کرنے کے پابند کرنے ہوں گے۔ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عنایت حسین نے کمیٹی کو بل پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ترمیمی بل کے تحت بینکوں میں پانچ لاکھ روہے تک رقم کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا، اس سے پہلے ڈھائی لاکھ روپے تک کے ڈیپازٹس کو تحفظ حاصل تھا۔انہوںنے کہاکہ اس بل میں مائیکرو فنانس بینک شامل نہیں ہیں، مائیکروفنانس بینکوں کو بھی مستقبل میں بل میں شامل کرنے کا ارادہ ہے، فی الحال ان کے لیے الگ سے تحفظ کا نظام موجود ہے۔

ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ بورڈ کو اختیار حاصل ہوگا کہ مائیکروفنانس بینکوں کو شامل کیا جائے یا نہیں، پہلے عالمی مالیاتی ادارے ڈیپازٹرز کے تحفظ کے حق میں نہیں تھا، عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اب ہمیں کہا ہے کہ ڈیپازٹرز کو تحفظ دیا جائے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ 50 سال ہوگئے، ہم نے ابھی تک یہ کام نہیں کیا، یہ ساری چیزیں آئی ایم ایف ہی کیوں ہمیں بتاتا ہے؟ڈپٹی گورنر نے جواب دیا کہ ڈاکٹر عشرت حسین کے دور میں یہ کام کرنا چاہتے تھے اس وقت عالمی اداروں نے مخالفت کی تھی، اسٹیٹ بینک کے بورڈ ممبران ایک میٹنگ کی 75 ہزار روپے فیس لیتے ہیں، دیگر بینکوں کی 50 ہزار روپے سے زیادہ فیس ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں اسلامک بینکنگ کے نام پر عوام سے فراڈ کا انکشاف ہوا، چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اسلامی بینکاری میں قرض لینے پر 25 سے 30 فیصد شرح سود لیا جاتا ہے، کنونشنل بینکاری 20 فیصد شرح سود چارج کرتی ہے، عوام کے ساتھ اسلامی بینکاری کے نام پر فراڈ ہورہا ہے، لوگ اسلام سے محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ مالی مفاد کے لیے جاتے ہیں، میرے پاس کئی کیسز آئے ہیں جن میں اسلامی بینکاری میں شرح سود زیادہ ہونے کی شکایت آئی ہے۔کمیٹی نے اسٹیٹ بینک سے اسلامی بینکاری پر بریفنگ طلب کرلی، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق بینکنگ کے شعبے میں روایتی بینکوں کا حصہ 75 اور اسلامی بینکاری کا 25 فیصد ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…