بدھ‬‮ ، 21 جنوری‬‮ 2026 

اسلامک بینکنگ کے نام پر عوام سے فراڈ کا انکشاف

datetime 28  اگست‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)ملک کے ایوان بالا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں اسلامک بینکنگ کے نام پر عوام سے فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں ڈیپازٹ پروٹیکشن ترمیمی ایکٹ کا جائزہ لیا گیا، اس کے بعد قائمہ کمیٹی نے ڈیپازٹ پروٹیکشن کارپوریشن ترمیمی بل 2024 منظور کرلیا۔

منظور کردہ بل کے تحت بینکوں میں اکاؤنٹ ہولڈرز کی فی اکاؤنٹ 5 لاکھ روپے تک کی رقم کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا اور دکیتی، غبن، فراڈ یا کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بینک صارفین کو 5 لاکھ روپے ادا کرنے کے پابند کرنے ہوں گے۔ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عنایت حسین نے کمیٹی کو بل پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ترمیمی بل کے تحت بینکوں میں پانچ لاکھ روہے تک رقم کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا، اس سے پہلے ڈھائی لاکھ روپے تک کے ڈیپازٹس کو تحفظ حاصل تھا۔انہوںنے کہاکہ اس بل میں مائیکرو فنانس بینک شامل نہیں ہیں، مائیکروفنانس بینکوں کو بھی مستقبل میں بل میں شامل کرنے کا ارادہ ہے، فی الحال ان کے لیے الگ سے تحفظ کا نظام موجود ہے۔

ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ بورڈ کو اختیار حاصل ہوگا کہ مائیکروفنانس بینکوں کو شامل کیا جائے یا نہیں، پہلے عالمی مالیاتی ادارے ڈیپازٹرز کے تحفظ کے حق میں نہیں تھا، عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اب ہمیں کہا ہے کہ ڈیپازٹرز کو تحفظ دیا جائے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ 50 سال ہوگئے، ہم نے ابھی تک یہ کام نہیں کیا، یہ ساری چیزیں آئی ایم ایف ہی کیوں ہمیں بتاتا ہے؟ڈپٹی گورنر نے جواب دیا کہ ڈاکٹر عشرت حسین کے دور میں یہ کام کرنا چاہتے تھے اس وقت عالمی اداروں نے مخالفت کی تھی، اسٹیٹ بینک کے بورڈ ممبران ایک میٹنگ کی 75 ہزار روپے فیس لیتے ہیں، دیگر بینکوں کی 50 ہزار روپے سے زیادہ فیس ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں اسلامک بینکنگ کے نام پر عوام سے فراڈ کا انکشاف ہوا، چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اسلامی بینکاری میں قرض لینے پر 25 سے 30 فیصد شرح سود لیا جاتا ہے، کنونشنل بینکاری 20 فیصد شرح سود چارج کرتی ہے، عوام کے ساتھ اسلامی بینکاری کے نام پر فراڈ ہورہا ہے، لوگ اسلام سے محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ مالی مفاد کے لیے جاتے ہیں، میرے پاس کئی کیسز آئے ہیں جن میں اسلامی بینکاری میں شرح سود زیادہ ہونے کی شکایت آئی ہے۔کمیٹی نے اسٹیٹ بینک سے اسلامی بینکاری پر بریفنگ طلب کرلی، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق بینکنگ کے شعبے میں روایتی بینکوں کا حصہ 75 اور اسلامی بینکاری کا 25 فیصد ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…