منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

سیاسی بے یقینی آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر کا سبب بنی،گورنر سٹیٹ بینک

datetime 27  جولائی  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)قائم مقام گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر مرتضی سید نے کہا ہے کہ سیاسی بے یقینی کی وجہ سے فیصلہ سازی میں نقصان دہ تاخیر اور مالیاتی سطح پر پالیسی کے حوالے سے کوتاہیاں آئی ایم ایف سے معاہدے کی بحالی مہم میں تاخیرکا سبب ہیں۔

سٹیٹ بینک کے ایک اعلامیے کے مطابق اْنھوں نے بتایا کہ اس کے نتیجے میں بیرونی رقوم کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ بیرونی قرضے کی واپسی کی رقوم بڑھتی رہیں اور فروری سے اب تک زرمبادلہ کے ذخائر میں 7 ارب ڈالر کی بھاری کمی آئی۔گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ یہ مشکلات ہماری اپنی پیدا کردہ ہیں تاہم اس معاشی طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کی پوزیشن دیگرممالک کی نسبت بہتر ہے۔ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے کہا کہ عالمی معیشت میں کئی بحران بیک وقت ابھرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور پاکستان بھی اس طوفان کی زد میں ہے۔اْنھوں نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ دباؤ زیادہ تر عالمی وجوہات کی وجہ سے ہے تاہم اس میں ملکی عوامل بھی شامل ہو گئے ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ، 15 برسوں کی بلند ترین مہنگائی، زر مبادلہ ذخائر میں کمی، روپے کی قدر میں کمی اور ہمارے بین الاقوامی بانڈز کے پریشان کن حد تک بڑھ جانے والے منافعے اس طوفان کی نشاندہی کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…