جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

مرغی کے گوشت کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

datetime 6  مئی‬‮  2021 |

مکوآنہ (این این آئی )فیصل آباد میں مرغی کے گوشت کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، عید سر پر ہے شہری سستے پروٹین کی قیمتوں میں ہوشربااضافے پر تشویش میں مبتلا ہیں۔ تفصیلات کے مطابق مرغی کے گوشت کی قیمت میں ہوشربااضافے پر شہری تشویش میں مبتلا ہیں۔ مرغی کا گوشت سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے

۔مرغی کے گوشت کی قیمت کو بریک لگنا تو درکنار الٹا قیمت میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔اب ایک بار پھرشہر میں مرغی کا گوشت10 روپے مہنگا کر دیا گیا جس کے بعد برائلر گوشت 377 سے بڑھ کر387 روپے فی کلو ہو گیا۔زندہ مرغی کا تھوک ریٹ259، پرچون ریٹ267 روپے کلو ہو گیا جبکہ فارمی انڈے 136 روپے فی درجن سرکاری نرخ نامہ برقرار ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں بھی مرغی کے گوشت کی سرکاری قیمت میں 10 روپے فی کلو اضافہ کر دیا گیا تھا جس کے بعدمرغی کا گوشت 364 سے بڑھ کر374 روپے فی کلو ہو گیا تھا قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ یہیں نہیں رکا بلکہ اس کے بعد قیمتوں میں تین روپے فی کلو اضافہ کیا گیا جس کے بعد گوشت کی فی کلو قیمت 377ہو گئی اب ایک بار پھر دس روپے فی کلو اضافے سے برائلر گوشت 387روپے فی کلو ہو گیا ۔رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں شہریوں نے پنجاب حکومت سے برائلر مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں کمی لانے کیلئے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف شہری پھٹ پڑے ہیں اورشہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتیں پہنچ سے باہر ہیں اب برائلر گوشت کی قیمت بھی شہریوں کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے اگر یہی صورتحال رہی تو نوبت فاقوں تک پہنچ جائے گی کیونکہ پہلے ہی گندم کی قیمتوں میں اضافے کے بعد آٹے کا تھیلا بہت مہنگا ہو گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…