جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

ٹڈی دل کا راج ،زراعت مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی

datetime 23  مارچ‬‮  2021 |

فیصل آباد(آن لائن)پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے۔ یہاں کا کسان محنتی اور زمین سے محبت کرنے والا ہے۔ 80 فیصد آبادی کا حصہ اس شعبہ سے منسلک ہے زراعت کے شعبہ کو ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے۔ زیادہ پیداوار کے لحاظ سے صوبہ پنجاب کو ایک اناج گھر کے طور پر سمجھا جاتا ہے، مگر آج حالت یہ ہے کہ کسان پے در پے مصیبتوں اور آفتوں سے نیم جان پڑا ہے۔

زراعت مکمل تباہی کے راستے پر ہے پنجاب کے زرخیز میدانوں میں ابھی کئی جگہوں پر ٹڈی دل کا راج ہے۔ ٹڈی دل جانوروں کا چارہ بھی کھائے جا رہا ہے۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے ملک کا کسان اس وقت اس قدر بے بس اور بے حال ہے کہ ہر دور میں کسی بھی حکومت نے اس کی حالت زار کی جانب کوئی توجہ نہیں دی اور دوسرا اسے ہر کوئی لوٹتا ہے لیکن یہ ہر کسی کے ہاتھوں لٹنے کے باوجود بھی ہر سال پھر اپنی فصل سے ہی پیار کر کے ایک بار پھر خوشحالی کے خواب دیکھتا ہے کہ شاید اس بار میری قسمت بدل جائے اسی امید پر اس کی بوائی کرتا ہے مگر اسے حکومتی رویوں اور دیگر مسائل سے پھر ایک بار مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ  ہمارا کسان دنیا بھر میں فی ایکڑ پیداوار حاصل کرنے میں اس وقت بہت پیچھے ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہر دور میں حکومت ایسے بیج نہیں بنا سکی جو بدلتے موسموں میں بھی زیادہ پیداوار دیں اور مختلف بیماریوں کا مقابلہ کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب زراعت منافع بخش پیشہ نہیں رہ گیا، کسان کی حالت زار وقت کے ساتھ ساتھ بدترین ہوتی جا رہی ہے۔ کسانوں کے بچے با امر مجبوری صنعتی مزدور بنتے جا رہے ہیں۔ دیہات سے شہروں کی طرف ہجرت شروع ہے، جو مختلف شہروں میں جا کر اپنا روز گار کمانے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ اس وقت اس ملک کے اندر بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے صرف شہروں میں رہنے والے لوگ ہی متاثر نہیں ہو رہے بلکہ ہمارا کسان اور زراعت بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں ان تمام وجوہات کی بنا پر کسان کے پیداواری اخراجات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ زراعت کسانوں کے لئے  گھاٹے کا سودا بنتا جارہاہے  دو نمبر بیج، کھاد، ڈیزل اور ملاوٹ شدہ زرعی ادویات نے کسان کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ کسان اپنی زمین اور زراعت سے اس طرح جُڑا ہوا ہے کہ وہ اس شعبے کو چھوڑ بھی نہیں سکتا۔



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…