بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

باسمتی چاول پاکستان میں مقامی پیداوار کے طور پر رجسٹرڈ نہ ہونے کا انکشاف

datetime 1  جنوری‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)ایک طرف پاکستان یورپی یونین میں بھارت کی جانب سے باسمتی چاول کو اپنی خصوصی مصنوعہ کے طور پر رجسٹرڈ کرانے کے خلاف کیس لڑ رہا ہے تو دوسری انکشاف ہوا ہے کہ باسمتی چاول پاکستان میں ہی مقامی مصنوعہ کے طور پر رجسٹرڈ ہی نہیں۔باسمتی چاول پاکستان میں ہی مقامی مصنوعہ کے طور پر رجسٹرڈ نہ ہونے کا انکشاف ہونے پر

رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے اناج کی رجسٹریشن کا مطالبہ کیا ہے ۔ رائس اپکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے  موقف اپنایا کہ قانون میں کسی مصنوعہ کو بین الاقومی مارکیٹ میں رجسٹرڈ کروانے سے پہلے اسے ملک کے جیوگرافیکل انڈیکیشن کے تحت تحفظ دینا لازم ہے،لیکن رواں برس مارچ میں نافذ ہونے والے جیوگرافیکل انڈیکیشن رجسٹریشن اینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2020 میں ایسے کوئی شق نہیں ۔رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق مارچ میں نافذ ہونے والے قانون کے قواعد بھی ابھی تک تشکیل نہیں دئیے جاسکے، جس کے نتیجے میں متعدد مقامی قابلِ برآمد مصنوعات دنیا میں کہیں بھی پاکستان کی جی آئی ٹیگنگ کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں کروائی جاسکتیں۔یورپی یونین میں جاری کیس کے پیش نظر حکومت کو جلد از جلد جی آئی قوانین کو حتمی شکل دینا ہوگی۔بھارت بین الاقوامی سطح پر باسمتی چاول کی 65 فیصد تجارت کرتا ہے، وہیں بقیہ 35 فیصد باسمتی چاول پاکستان پیدا کرتا ہے جو ملک کی سالانہ 80 کروڑ سے ایک ارب ڈالر برآمدات کے برابر ہے۔پاکستان سالانہ 5 سے 7 لاکھ ٹن باسمتی چاول دنیا کے مختلف حصوں کو برآمد کرتا ہے جس میں سے 2 سے ڈھائی لاکھ ٹن یورپی ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے، باسمتی چاول کو پاکستان کی مصنوعہ کے طور پر تحفظ دینے کا معاملہ اس وقت منظر عام پرآیا تھا جب بھارت نے رواں برس ستمبر میں یورپی یونین میں ایک درخواست جمع کروا کر اس اناج کی مکمل ملکیت کا دعوی کیا تھا۔پاکستان نے بھارتی دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے دلیل دی تھی کہ باسمتی چاول پاکستان اور بھارت کی مشترکہ پیداوار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…