ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

باسمتی چاول پاکستان میں مقامی پیداوار کے طور پر رجسٹرڈ نہ ہونے کا انکشاف

datetime 1  جنوری‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)ایک طرف پاکستان یورپی یونین میں بھارت کی جانب سے باسمتی چاول کو اپنی خصوصی مصنوعہ کے طور پر رجسٹرڈ کرانے کے خلاف کیس لڑ رہا ہے تو دوسری انکشاف ہوا ہے کہ باسمتی چاول پاکستان میں ہی مقامی مصنوعہ کے طور پر رجسٹرڈ ہی نہیں۔باسمتی چاول پاکستان میں ہی مقامی مصنوعہ کے طور پر رجسٹرڈ نہ ہونے کا انکشاف ہونے پر

رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے اناج کی رجسٹریشن کا مطالبہ کیا ہے ۔ رائس اپکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے  موقف اپنایا کہ قانون میں کسی مصنوعہ کو بین الاقومی مارکیٹ میں رجسٹرڈ کروانے سے پہلے اسے ملک کے جیوگرافیکل انڈیکیشن کے تحت تحفظ دینا لازم ہے،لیکن رواں برس مارچ میں نافذ ہونے والے جیوگرافیکل انڈیکیشن رجسٹریشن اینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2020 میں ایسے کوئی شق نہیں ۔رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق مارچ میں نافذ ہونے والے قانون کے قواعد بھی ابھی تک تشکیل نہیں دئیے جاسکے، جس کے نتیجے میں متعدد مقامی قابلِ برآمد مصنوعات دنیا میں کہیں بھی پاکستان کی جی آئی ٹیگنگ کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں کروائی جاسکتیں۔یورپی یونین میں جاری کیس کے پیش نظر حکومت کو جلد از جلد جی آئی قوانین کو حتمی شکل دینا ہوگی۔بھارت بین الاقوامی سطح پر باسمتی چاول کی 65 فیصد تجارت کرتا ہے، وہیں بقیہ 35 فیصد باسمتی چاول پاکستان پیدا کرتا ہے جو ملک کی سالانہ 80 کروڑ سے ایک ارب ڈالر برآمدات کے برابر ہے۔پاکستان سالانہ 5 سے 7 لاکھ ٹن باسمتی چاول دنیا کے مختلف حصوں کو برآمد کرتا ہے جس میں سے 2 سے ڈھائی لاکھ ٹن یورپی ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے، باسمتی چاول کو پاکستان کی مصنوعہ کے طور پر تحفظ دینے کا معاملہ اس وقت منظر عام پرآیا تھا جب بھارت نے رواں برس ستمبر میں یورپی یونین میں ایک درخواست جمع کروا کر اس اناج کی مکمل ملکیت کا دعوی کیا تھا۔پاکستان نے بھارتی دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے دلیل دی تھی کہ باسمتی چاول پاکستان اور بھارت کی مشترکہ پیداوار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…