اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کی تاریخ کی مہنگی ترین گاڑی رجسٹرد شہری کون ہے اور گاڑی کی رجسٹریشن فیس کتنے لاکھ روپے وصول کی گئی ؟محکمہ ایکسائز نے چند روز قبل رجسٹریشن سے کیوں انکار کیا تھا

datetime 26  اکتوبر‬‮  2020 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)محکمہ ایکسائزکی تاریخ کی سب سے مہنگی گاڑی رجسٹرڈ ، تفصیلات کے مطابق محکمہ ایکسائز نے مہنگی ترین گاڑی لیمبر گنی اسپورٹس کار کی کی رجسٹریشن کر دی ۔ گاڑی کی رجسٹریشن فیس 45 لاکھ 32 ہزارروپےجمع کروا ئی گئی ہے ۔ یہ گاڑی پاکستان کی تاریخ کی

پہلی مہنگی ترین گاڑی ہے جس کی رجسٹریشن کی گئی ہے ، لیمبرگنی اسپورٹس کار کی قیمت ساڑھے 11 کروڑروپےہے، محکمہ ایکسائز نےچند دن قبل اتنی مہنگی گاڑی کی رجسٹریشن سےمعذرت کی تھی، ایکسائز کےموٹرسسٹم میں 10 کروڑتک گاڑی رجسٹر ہوسکتی تھی ، مہنگی اسپورٹس گاڑی ارجمند نامی شہری نے رجسٹرکروائی۔ واضح رہےکہ صوبائی دارالحکومت لاہور کے رہائشی ایک شہری ارجمند کے لئے اس کی درآمد شدہ بارہ کروڑ روپے مالیت کی گاڑی درد سر بن گئی تھی جبکہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب نے مذکورہ قیمتی گاڑی کی رجسٹریشن کرنے سے انکار کردیا تھا ، گاڑی کے مالک کا کہنا تھا کہ اس نے اپنی گاڑی بیرون ملک سے درآمد کی تھی۔ لاہور پہنچنے پر گاڑی کے مالک نے 38 لاکھ روپے کی کسٹم ڈیوٹی ادا کی جبکہ دیگر ٹیکسز کی مد میں کروڑوں روپے سرکاری خزانے میں جمع کروائے اور اب محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اس کی گاڑی رجسٹرڈ کرنے سے قاصر ہے اس حوالے سے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا کہنا ہے کہ اس کے سسٹم میں صرف 10 کروڑ روپے مالیت کی گاڑی رجسٹرڈ کرنے کی گنجائش ہے اور آخری مرتبہ ساڑھے 9 کروڑ روپے مالیت کی گاڑی رجسٹرڈ کی گئی تھی جبکہ شہری کا کہنا ہے کہ وہ اپنی گاڑی کی رجسٹریشن کے لئے کئی دنوں سے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کے دفاتر کے دھکے کھا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…