پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

اہم یورپی کمپنیوں میں بڑھتی ہوئی چینی سرمایہ کاری، مغربی ممالک خوفزدہ

datetime 19  اپریل‬‮  2020 |

برسلز(این این آئی)مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا خیال ہے کہ حالیہ کچھ عرصے کے دوران یورپ میں ٹیکنالوجی کے حساس سیکٹر میں چینی سرمایہ کاری میں اضافہ یورپی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق برطانوی خفیہ انٹیلیجنس ایجنسی ایم سولہ کے سابق سربراہ جان سیورزنے کہاکہ مغربی ٹیکنالوجی کو چینی کمپنیوں سے بچانا بہت ضروری ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ

اس کو سرد جنگ کے دور میں سابقہ سوویت یونین کے خطرے کے طور پر نہیں لیا جا سکتا لیکن ٹیکنالوجی پر کنٹرول کے حصول کی مسابقت شدید ہو رہی ہے۔برطانیہ کے سابق انٹیلی جنس سربراہ کے بیان کے ساتھ ساتھ ایسی رپورٹیں بھی سامنے آئی ہیں کہ برطانیہ ہی کی سیمی کنڈکٹر چِپ ڈیزائنر کمپنی اِمیجینیشن ٹیکنالوجی اپنا دفتر چین منتقل کرنے کی سوچ رکھتی ہے۔ اس کمپنی کو سن 2017 میں ایک ایسی پرائیویٹ ایکوئٹی نے خریدا تھا، جسے چینی حکومت کی حمایت حاصل تھی۔دوسری جانب یورپی ممالک کے چین کے ساتھ اقتصادی روابط ایک ایسے دور میں بھی آگے بڑھ رہے ہیں جب معاشی گراوٹ کی فضا پیدا ہو چکی۔ اس تناظر میں یورپی یونین اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے متنبہ کیا کہ وہ اس چینی سلسلے کو روکیں جس کے تحت اہم یورپی کمپنیوں کو خریدا جا رہا ہے۔اس موقع پر وزرائے دفاع نے نیٹو معاہدے کی شق تین پر بھی بحث کی ہے۔ اس شق میں بحرانی دور میں حساس آلات کی فروخت کے ساتھ ساتھ اہم صنعتوں کو بچانا شامل ہے۔ اس مناسبت سے نیٹو کے سیکرٹری جنرل کے رومانیہ سے تعلق رکھنے والے نائب میرچا جوآنا کا کہنا تھا کہ حکومتیں جانتی ہیں کہ کون سی صنعتیں اسٹریٹیجک نوعیت کی ہیں اور ان کا ہر ممکن تحفظ کرنا بھی ضروری ہے۔یورپی حالات و واقعات پر نگاہ رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ حالیہ عرصے میں یورپ میں چینی اقتصادی سرگرمیاں بڑھی ہیں اور یہ اس براعظم کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہیں۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…