ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

تاجکستان اور پاکستان کے درمیان بجلی کی ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر اس پروجیکٹ پر کتنے ارب روپے خرچ کیے جائیں گے ؟ تفصیلا ت جاری

datetime 12  جولائی  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)کاسا 1000 منصوبے کے تحت بجلی کے حصول کیلئے تاجکستان اور پاکستان کے درمیان ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر کیلئے رواں مالی سال کے دوران7 ارب 87 کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ پاور ڈویڑن کے ذرائع کے مطابق سی ڈی ڈبلیو پی نے رواں سال اپریل میں اس منصوبے کی منظوری دی تھی جس پر لاگت کا مجموعی تخمینہ 45 ارب 98 کروڑ 90 لاکھ روپے ہے جس میں 30 ارب 70 کروڑ 80 لاکھ روپے کا غیر ملکی زرمبادلہ بھی شامل ہے۔منصوبے کے تحت تاجکستان اور پاکستان کے درمیان 500 کے وی

ٹرانسمیشن لائن بچھائی جائیگی۔ کرغزستان اور تاجکستان کے راستے پاکستان اور افغانستان کو بجلی کی فراہمی کے منصوبے سے خطے میں میں سماجی اور اقتصادی ترقی اور پاکستان اور افغانستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی اور اس سے وسطی ایشیا جنوبی ایشیائی علاقائی الیکٹرسٹی مارکیٹ قائم کرنے کے منصوبے میں بھی پیش رفت ہوگی۔ اس منصوبے سے نہ صرف وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیاں علاقائی روابط کو فروغ ملے گا بلکہ توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو بھی پورا کیا جا سکے گا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…