جمعہ‬‮ ، 31 جولائی‬‮ 2026 

چیئرمین شبر زیدی کے اقدامات سے ایف بی آر اور کاروباری برادری کے درمیان اعتماد سازی ہوگی : لاہور چیمبر

datetime 14  مئی‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) لاہور چیمبر کے صدر الماس حیدر، سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر اور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شبر زیدی کے درست اقدامات اور کاروباری برادری کو عزت و احترام دینے کی ہدایات پر اطمینان کا اظہار کرتے امید ظاہر کی ہے کہ ان کی بدولت ایف بی آر اور کاروباری برادری کے درمیان اعتماد سازی ہوگی۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی سربراہی سنبھالتے ہی شبر زیدی نے متعلقہ فرد کو نوٹس دئیے اور چیئرمین ایف بی آر کی منظوری کے بغیر عملے کو بینک اکائونٹس تک رسائی سے روک دیا جس سے نہ صرف کاروباری برادری کو بہت بڑا ریلیف ملے گا بلکہ متوازی معیشت کا خاتمہ بھی ہوگا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ٹیکسوں کی بھاری تعداد میں کمی اور ادائیگیوں کے طریقہ کار میں تبدیلی بھی چیئرمین ایف بی آر کی ترجیحات میں شامل ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسوں کی ادائیگی کے طریقہ کار کے حوالے سے پاکستان کی عالمی درجہ بندی 173ہے ۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی کاروباری برادری سال میں 47مرتبہ مختلف نوعیت کے ٹیکس ادا کرتی ہے ، اس کے مقابلے ہانگ کانگ کے تاجر سال میں تین، یو اے ای چار، آئرلینڈ نو، ملائشیاآٹھ، انڈیا تیرہ اور سری لنکا کے تاجر سال میں 36مرتبہ ٹیکس ادا کرتے ہیںاور یہ ممالک ہیں جن کے ساتھ عالمی منڈی میں پاکستان کا مقابلہ ہے۔ لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ پاکستان میں ایک کمپنی، جو چاروں صوبوں میں آپریشنل ہو، اسے سال میں پانچ مرتبہ کارپوریٹ انکم ٹیکس، بارہ مرتبہ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ ، بارہ مرتبہ سوشل سکیورٹی، ایک مرتبہ ایجوکیشن سیس، ایک مرتبہ پراپرٹی ٹیکس، ایک مرتبہ وہیکل ٹیکس، ایک مرتبہ سٹیمپ ڈیوٹی اور ایسے ہی کئی دیگر ٹیکسزادا کرنے پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پروفیشنل اور پراپرٹی ٹیکس کو اکٹھا کردیا جائے، اسی طرح وفاقی اور صوبائی سیلز ٹیکس بھی یکجا کردینے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ اور انٹرنیٹ و موبائل بینکنگ کے ذریعے ٹیکسز جمع کروانے کی اجازت دی جائے۔ لاہور چیمبر کے صدر نے مزید کہا کہ ریٹرن کی فائلنگ کے دو ماہ کے اندر تمام ریفنڈز کلیئر کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام محکموں کو پابند کیا جائے کہ وہ الیکٹرانک فائلنگ اور آن لائن پیمنٹ کا سسٹم وضع کریں، فزیکل آڈٹ کم کرنے کے لیے رسک مینجمنٹ سسٹم بہتر کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…