جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کارپٹ ایسوسی ایشن کا نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی بجائے ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر تشویش کا اظہار

datetime 31  مارچ‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی)پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے ایف بی آر کی جانب سے نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی بجائے ٹیکس دہندگان کو نوٹسز کے ذریعے ہراساں کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات سے ٹیکس آمدنی میں اضافہ ممکن نہیں ،ایف بی آر کے بعد پنجاب کے کئی محکموں کی جانب سے بھی ایکسپورٹرز کو نوٹسز کے اجراء پر ایسوسی ایشن کے

ممبران میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار سینئر وائس چیئرمین اعجاز الرحمان نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے بلائے گئے ہنگامی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن پرویز حنیف ، سینئر مرکزی رہنما عبد اللطیف ملک، ریاض احمد، سعید خان، اکبر ملک سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ اجلاس کے شرکاء نے وزیر اعظم عمران خان ،وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر ، وزیر مملکت ریو نیو حماد اظہر اور مشیر برائے تجارت عبد الرزاق سے مطالبہ کیا کہ ایف بی آر کی ٹیکس دہندگان کے خلاف جاری کارروائیوں کا فی الفور نوٹس لے کر ان اقدامات سے سختی سے روکا جائے ۔ اعجاز الرحمان نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے ٹیکسیشن کے نظام میں بہتری کیلئے اصلاحات کا ڈھنڈورا پیٹا گیا لیکن آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود اس طرف کوئی پیشرفت نہیں کی گئی ۔ حکومت پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ ڈالنے کی پالیسی کو ترک کرے ۔ ایف بی آر کے افسران دفاتر میں بیٹھ کر بغیر کسی جانچ پڑتال کے نوٹسز جاری کرکے کارکردگی دکھانے کی بجائے درست سمت میں کام کریں اور نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لئے پالیسی بنائی جائے ۔ضلعی حکومت اور لیبر ڈیپارٹمنٹ سمیت دیگر صوبائی محکمے بھی مختلف طریقوں سے ہراساں کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹرز سے ایک طے شدہ طریق کار کے مطابق ٹیکسز کٹوتی کی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود ایف بی آر کی جانب سے ممبران کونوٹسز جاری کئے جارہے ہیں جس سے ان میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار کے حالات اور برآمدات پہلے ہی تنزلی کا شکار ہیں اور ایسے اقدامات سے حالات مزید ابتر ہو رہے ہیں جس کا حکومت کو فی الفور نوٹس لینا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ

حکومت ٹیکسز کی شرح میں کمی کرے اور نئے لوگوں کو راغب کرنے کیلئے آسان اور دوستانہ پالیسیاں تشکیل دے ۔ ایف بی آر چھاپے مارنے اور نوٹسز کے اجراء کی بجائے ایسوسی ایشنوں اور تنظیموں کے عہدیداران سے مشاورت کرے تاکہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہو سکیں ۔چور راستے بند کرنے کیلئے ٹیکس جمع کرنے والے اداروں کی بھی سخت مانیٹرنگ کرنے کی ضرورت ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…