جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت سرپرستی کرے تو کارپٹ انڈسٹری دیہی علاقوں سے نقل مکانی روکنے کا موثر ذریعہ بن سکتی ہے : کارپٹ ایسوسی ایشن

datetime 23  دسمبر‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی )پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹر ز ایسوسی ایشن نے دیہی علاقوں کی ترقی اور نقل مکانی روکنے کیلئے لائیو سٹاک اور مرغبانی کے منصوبوں میں کارپٹ انڈسٹری کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور

متعلقہ وزارتوں کو اس سلسلہ میں تجاویز پر مبنی ڈرافٹ ارسال کیا جائے گا ، حکومت کارپٹ انڈسٹری کی سرپرستی کرے تو وزیر اعظم عمران خان کے پسے ہوئے طبقات کو خط غربت سے اوپر لانے اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کے خواب کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار گروپ لیڈر عبد اللطیف ملک نے ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر کارپٹ انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین سعید خان ، ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین اعجاز الرحمان، سینئر ممبر ریاض احمد ، اکبر ملک ، میجر (ر) اختر نذیر اور دیگر بھی موجود تھے۔ عبد اللطیف ملک نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے برآمدات کے فروغ کیلئے سہولیات اور مراعات دینے کا اعلان انتہائی خوش آئند ہے لیکن اس پر جلد سے جلد عملی پیشرفت کرنے کی ضرورت ہے ۔حکومت برآمدات کے فروغ کیلئے کامیاب ممالک کی سٹڈی کرائے اور اس مناسبت سے مقامی مینو فیکچررز اور برآمدکنندگان کو سہولیات اور مراعات دی جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دیہی علاقوں سے نقل مکانی روکنے کیلئے حکومت مشاورت کا آغاز کرے ۔دیہی علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے انہیں دہلیز پر روزگار کے مواقع اور سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے لائیو سٹاک اور مرغبانی کے فروغ کے منصوبے قابل ستائش ہیں اور ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کے ساتھ کارپٹ انڈسٹری کو بھی اس میں شامل کیا ۔ حکومت کی جانب سے کارپٹ انڈسٹری کی سرپرستی سے دیہی علاقوں میں روزگار کے وسیع مواقع کئے جا سکتے ہیں جس سے بغیر کچھ خرچ کئے وزیر اعظم عمران خان کے پسے ہوئے طبقات کو خط غربت سے اوپر لانے اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کے خواب کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…