منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے سے 7دن پہلے ہی پاکستانیوں کو شاندار خوشخبری مل گئی ،ملک پر بیرونی قرضے کتنے ارب ڈالر کم ہو گئے؟جان کر آپ کو بھی یقین نہیں آئیگا

datetime 11  اگست‬‮  2018 |

کراچی(نیوز ڈیسک)ملکی معیشت کی مجموعی صورتحال بہتری کی طرف جانب رواں دواں ہے ڈالر کے مقابل روپے کی قدر میں اضافے سے ملکی قرضوں کے بوجھ میں 5 ارب ڈالر تک کی کمی ہوچکی ہے۔الیکشن 2018 کے نتائج کے بعد ملک کی معاشی صورتحال میں تبدیلی آئی اور یہ بہتری کی جانب بڑھی۔ اس پیشرفت کے بعد ڈالر کی مسلسل بڑھتی قیمت ناصرف رکی بلکہ روپے کی

قدر بھی بہتر ہونے لگی۔25جولائی کے الیکشن کے بعد سے اوپن مارکیٹ میں 8روپے اور انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 5روپے تک کم ہوئی ہے، جس کا فوری اثر پاکستان کے بیرونی قرضوں پر پڑا اور ملکی قرضوں کے بوجھ میں 5ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ جو مسلسل مندی کا شکار تھی اور رواں برس کے ایس ای 100 انڈیکس 38 ہزار کی کم ترین سطح پر جا پہنچا تھا، اب تقریبا 5ہزار پوائنٹس اضافے کے ساتھ رواں سال کی بلند ترین سطح 43 ہزار عبور کر گئی ہے۔اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوا جس کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے بڑھ گئے ہیں۔ملکی معیشت میں بہتری کا اثر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑا جو تیزی سے اوپر جا رہی تھیں تاہم گزشتہ دو ماہ سے ایک جگہ مستحکم ہیں۔ اگر چہ عالمی مارکیٹ میں تیل قیمتوں میں ردوبدل کے بعد اوگرا کی جانب سے گزشتہ ماہ قیمتیں بڑھانے کی تجویز دی گئی تھی جسے نگراں حکومت نے منظور نہیں کیا تھا تاہم اسے بھی مثبت اشاریہ کے طور پر دیکھا گیا ہے۔معاشی اشاریوں پر نظر رکھے ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ وزیر خزانہ کے مضبوط امیدوار اسد عمر کیلئے سب سے بڑا چیلنج ڈالر کی قیمت کوکنٹرول کرنے کے ساتھ تیل کی قیمت میں کمی اور برآمدات(ایکسپورٹ)میں اضافے اور درآمدات(امپورٹ)کی شرح میں کمی کرنا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے حکومت کی تشکیل سے قبل بڑے اعلانات اور ان مسائل سے نمٹنے کے حل دیئے جاتے رہے ہیں اب انہیں عملی طور پر درست ثابت کرنے کا موقع آگیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…