منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت قومی خزانے میں کتنی رقم جمع ہوئی؟حیران کن اعدادوشمارجاری

datetime 30  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سابق حکمراں جماعت کی جانب سے متعارف ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے گزشتہ روز تک 5 ہزار شہریوں نے اپنے بیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات جمع کرائیں اور اسکیم کی آخری تاریخ تک قومی خزانے میں تقریباً 80 ارب روپے جمع ہو چکے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق موصول ہونے والی کل رقم کا اندازہ ٹھیک نہیں سے لگایا جاسکتا ۔

کیوں کہ متعدد گوشوارے تاحال تصدیق کے عمل سے گزر رہے ہیں جبکہ 80 ارب روپے 29 جون تک حکومتی اکاؤنٹ میں جمع ہو چکے ہیں۔ واضح رہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں موجود متعدد اہم ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ 21 جون تک اسکیم کے تحت ٹیکس کی مد میں 21 ارب روپے جمع کیے جا چکے ہیں۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ بینکوں میں تقریباً 5 ارب روپے جبکہ ایف بی آر کے آن لائن سسٹم میں 16 ارب روپے کے چالان جمع کرائے گئے تھے۔ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی مدت 30 جون ہے جس میں توسیع کے امکانات کو مسترد کردیا گیا لیکن نگراں حکومت پر اسکیم کی مدت میں اضافے کا شدید دباؤہے۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ کراچی اور پشاور سے سب سے زیادہ بیرون ملک اثاثے ظاہر کیے گئے، کراچی کے ایک شہری نے بیرون ملک اثاثوں کی مد میں 3 ارب 20 کروڑ روپے جبکہ پشاور کی ایک خاتون نے 1 ارب 20 کروڑ روپے ادا کیئے۔کراچی سے تعلق رکھنے والے صنعت کار نے بیرون ملک اثاثوں کو ظاہر کرتے ہوئے 26 کروڑ70 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کرائے۔واضح رہے کہ نگراں وزیر خزانہ شمشاد اختر ہفتے کے روز پیرس سے پاکستان پہنچیں گی۔ اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کی بڑی تعداد تاحال موجود ہے اور ایف بی آر اور محکمہ خزانہ کو امید ہے کہ اسکیم کی مد میں تقریباً 100 ارب روپے سرکاری خزانے میں جمع کیے جانے کا امکان ہے۔اس حوالے سے وزرات خزانہ نے ایف بی آر کے اعلیٰ حکام پر واضح کیا ہے کہ معلومات کو تاحال پوشیدہ رکھا جائے گا اور ایف بی آر کے چیئرمین طارق پاشا، ڈاکٹر محمد اقبال اور اسپیشل اسسٹنٹ چیئرمین ملک امجد کو جمع کرائے اثاثوں کی تفصیلات تک رسائی حاصل ہے۔ایف بی آر کے ترجمان ڈاکٹر محمد اقبال سے متعدد مرتبہ مطلوبہ تفصیلات کے بارے میں پوچھا گیا ۔

لیکن وہ معلومات فراہم کرنے سے گریزاں رہے۔ لوگ تاحال چالان جمع کرارہے ہیں لیکن انہیں بہت پریشانی کا سامنا ہے، مشرق وسطیٰ میں موجود پاکستانیوں کو ہفتہ وار چھٹیوں جمعہ اور ہفتے کی وجہ سے مشکلات ہو رہی ہے۔دوسری جانب ملکی سطح پر اثاثے ظاہر کرنے کے عمل میں کسی شکایت کی اطلاعات نہیں آئیں، ایف بی آر نے بینکوں سے معاہدہ کیا تھا کہ وہ ناصرف اپنی شاخیں ہفتہ اور اتوار کو بھی کھولیں بلکہ ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کے چالان بینک کے اوقات کے بعد بھی وصول کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…