بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

ابراج گروپ کا اپنا کاروبار ختم کرنے پر غور

datetime 19  جون‬‮  2018 |

کراچی  (مانیٹرنگ ڈیسک) دبئی میں قائم نجی کاروباری کمپنی ابراج کیپیٹل اپنی قرض خواہ کمپنیوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے کاروبار کے عبوری خاتمے پر غور کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ابراج کیپیٹل کی 2 قرض خواہ کمپنیاں اس کے قرض کی ذمہ داری کے حوالے سے رواں ماہ کے آغاز میں نادہندہ ہونے پر کاروبار کو ختم کرنے پر زور دے رہی ہیں۔ ابراج گروپ اپنی قرض خواہ کمپنیوں سے قرضے کے از سرنو معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کرتارہا ہے، اور ان کے ساتھ ایک معاہدے پر اتفاق ہی ہوا تھا۔

اس کے 2 غیر مطمئن قرض خواہوں نے اپنی رقوم کے دعوے کردیے۔ کویت کی کمپنی پبلک انسٹیٹیوشن فارسوشل سیکیورٹی (پی آئی ایف ایس ایس) اور اوکٹس فنڈ لمیٹڈ نے 10 کروڑ ڈالر کے قرض کی واپسی کا مطالبہ کردیا۔ ابراج گروپ کی ‘ونڈ پاور پروجیکٹ’ میں سرمایہ کاری کویتی کمپنی نے ابراج کیپیٹل کے خلاف کیمن جزائر کی عدالتوں میں مقدمات دائر کیے جہاں وہ حقیقی طور پر مندرج ہے، اور استدعا کی کہ کمپنی کے اثاثے بیچ کر ان کے قرضوں کی واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ بعدِ ازاں اوکٹس فنڈ لمیٹڈ بھی اس کیس میں کویتی کمپنی کے ساتھ شامل ہوگئی اور دونوں کمپنیوں نے ابراج گروپ سے 10 کروڑ ڈالر کی واپسی کا مطالبہ کردیا جو ابراج کیپیٹل کو 28 فروری تک واپس کرنے تھے۔ کیمن جزائر کی عدالت نے پی آئی ایف ایس ایس کی پٹیشن کو 29 جون کو سماعت کے لیے مقرر کیا۔ تاہم اوکٹس فنڈ لمیٹڈ نے ایک علیحدہ پٹیشن دائر کی تھی جس میں انہوں نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ابراج کیپیٹل کی سرمایہ کاری کرنے والی ذیلی کمپنی کو ختم کیا جائے۔ ادھر ابراج گروپ یہ منصوبہ بنا رہا ہے کہ وہ کیس کی سماعت سے قبل کاروبار کے عبوری خاتمے کے لیے درخواست دائر کرے گا جو ممکنہ طور پر دونوں درخواستوں کے خلاف لڑنے میں معاون رپورٹ کے مطابق ابراج گروپ اپنے قرض خواہ کو کسی بھی کارروائی سے روکنے پر رضامند کرنے کا معاہدے کرنے کے لیے رابطے میں ہے تاکہ کمپنی کے اثاثوں کی فروخت کرنے تک قرض خواہ کمپنیوں کو کارروائی کرنے سے روکا جائے۔ اوکٹس فنڈ لمیٹڈ نے موقف اختیار کیا کہ کیمن جزائر کی عدالت کی زیرِ نگرانی کوئی بھی معاہدہ قابلِ قبول ہوگا، جو اس معاملے کے پائیدار حل کی جانب تیزی سے آگے بڑھے گا۔ ذرائع کے مطابق ابراج گروپ نے کاروبار کے عبوری خاتمے کے حوالے سے مسودہ تیار کر لیا گیا۔

اور اسے 29 جون سے قبل دائر کر دیا جائے گا۔خیال رہے کہ ابراج گروپ اس وقت سے مسائل کے بڑھتے ہوئے سلسلے کا مرکز رہا ہے جب سے عالمی بینک اور بل اینڈ میلنڈا فاؤنڈیشن نے الزام عائد کیا تھا کہ اس نے ان کمپنیوں کے فنڈز کا غلط استعمال کیا ہے۔مذکورہ کمپنیوں کی جانب سے دیے گئے فنڈ کا کثیر حصہ پاکستان، بھارت اور نائیجیریا جیسے ممالک میں اسکولوں

اور صحت کے مراکز کی تعمیر میں خرچ ہونا تھا۔سرمایہ کاروں کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ ان کی رقوم حاصل کرلی گئیں لیکن انہیں مطلوبہ اہداف پر خرچ نہیں کیا گیا۔ بعدِ ازاں ابراج کے خلاف سرمایہ کاری بغاوت سامنے آئی جس سے اس کے قرض خواہوں کو خطرات لاحق ہوئے اور اس طرح کمپنی کو پہلے ڈیفالٹر اور پھر اپنے کاروبار کو بند کرنے پر زور دینا پڑا۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…