جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

وفاقی حکومت نے ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات کم کر دیئے

datetime 14  جنوری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پلاننگ کمیشن کی جانب سے 12 جون کو پبلک سیکٹر پر مشتمل ترقیاتی منصوبوں (پی ایس ڈی پی) کے لیے صرف 3 کھرب 44 ارب روپے جاری ہوئے جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت مالی سال 2018-2017 کا خسارہ محدود رکھنے کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات میں کمی لارہی ہے۔ واضح رہے کہ ترقیاتی اسکیموں کے لیے ایک ہزار ارب روپے سے زائد مختص ہیں

جبکہ حکومت نے اس کا صرف 34 اعشاریہ 4 فیصد خرچ کیا جو تقریباً 3 کھرب 44 ارب روپے بنتا ہے۔ یہ پڑھیں: ترقیاتی اسکیموں کیلئے صرف 35 فیصد فنڈز کا اجراء دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے گزشتہ برس پی ایس ڈی پی پر 8 سو ارب روپے مختص کیے تھے اور اسی عرصے میں 13 جنوری 2017 تک 300 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے تحت استعمال میں لائے گئے تھے جو 37 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ ترقیاتی منصوبوں سے متعلق منظورشدہ طریقہ کارکے مطابق حکومت کو سال کی پہلی سہ ماہی میں کل رقم کا چالیس 40 فیصد تقریباً 400 ارب روپے جاری کرنے چاہیے تھے۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں حکومت نے 30 ارب روپے قانون سازوں کی سفارشات پر کمیونٹی ڈویلپمنٹ منصوبوں اور تقریباً 9 ارب روپے پرائم منسٹر یوتھ پروگرام پر خرچ کیے۔ یہ بھی پڑھیں: بیرونی، مالیاتی اکاؤنٹس پر دباؤ برقرار رہے گا، اسٹیٹ بینککمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت سڑکوں کی تعمیر، سیوریج اور پانی کا نظام بہتر بنانے سمیت دیگر پروجیکٹس پر کام جاری ہے۔پلاننگ کمیشن کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق وفاقی وزراء کو سال کی پہلی سہ ماہی میں 92 ارب جاری کیے جو کل رقم کا 29 فیصد بنتا ہے جبکہ کل تخمینہ 3 کھرب 21 ارب روپے ہے۔مزید پڑھیں: چین نے سی پیک کے تحت سڑکوں کے منصوبوں کی مالی امداد روک دیوفاقی حکومت کے زیرِانتظام قبائلی علاقے (فاٹا)، کشمیر اور گلگت

بلتستان کے لیے حکومت نے 71 ارب روپے میں سے 33 ارب روپے جاری کیے۔ رقم کی تقسیم کے منظور شدہ طریقہ کار کی رو سے حکومت موجودہ سال پہلی دو سہ ماہی میں 20 فیصد فنڈز جبکہ تیسری اور چوتھی سہ ماہی میں 30، 30 فیصد فنڈز جاری کرنے کی پابند ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…