بدھ‬‮ ، 24 جون‬‮ 2026 

وفاقی حکومت نے ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات کم کر دیئے

datetime 14  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پلاننگ کمیشن کی جانب سے 12 جون کو پبلک سیکٹر پر مشتمل ترقیاتی منصوبوں (پی ایس ڈی پی) کے لیے صرف 3 کھرب 44 ارب روپے جاری ہوئے جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت مالی سال 2018-2017 کا خسارہ محدود رکھنے کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات میں کمی لارہی ہے۔ واضح رہے کہ ترقیاتی اسکیموں کے لیے ایک ہزار ارب روپے سے زائد مختص ہیں

جبکہ حکومت نے اس کا صرف 34 اعشاریہ 4 فیصد خرچ کیا جو تقریباً 3 کھرب 44 ارب روپے بنتا ہے۔ یہ پڑھیں: ترقیاتی اسکیموں کیلئے صرف 35 فیصد فنڈز کا اجراء دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے گزشتہ برس پی ایس ڈی پی پر 8 سو ارب روپے مختص کیے تھے اور اسی عرصے میں 13 جنوری 2017 تک 300 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے تحت استعمال میں لائے گئے تھے جو 37 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ ترقیاتی منصوبوں سے متعلق منظورشدہ طریقہ کارکے مطابق حکومت کو سال کی پہلی سہ ماہی میں کل رقم کا چالیس 40 فیصد تقریباً 400 ارب روپے جاری کرنے چاہیے تھے۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں حکومت نے 30 ارب روپے قانون سازوں کی سفارشات پر کمیونٹی ڈویلپمنٹ منصوبوں اور تقریباً 9 ارب روپے پرائم منسٹر یوتھ پروگرام پر خرچ کیے۔ یہ بھی پڑھیں: بیرونی، مالیاتی اکاؤنٹس پر دباؤ برقرار رہے گا، اسٹیٹ بینککمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت سڑکوں کی تعمیر، سیوریج اور پانی کا نظام بہتر بنانے سمیت دیگر پروجیکٹس پر کام جاری ہے۔پلاننگ کمیشن کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق وفاقی وزراء کو سال کی پہلی سہ ماہی میں 92 ارب جاری کیے جو کل رقم کا 29 فیصد بنتا ہے جبکہ کل تخمینہ 3 کھرب 21 ارب روپے ہے۔مزید پڑھیں: چین نے سی پیک کے تحت سڑکوں کے منصوبوں کی مالی امداد روک دیوفاقی حکومت کے زیرِانتظام قبائلی علاقے (فاٹا)، کشمیر اور گلگت

بلتستان کے لیے حکومت نے 71 ارب روپے میں سے 33 ارب روپے جاری کیے۔ رقم کی تقسیم کے منظور شدہ طریقہ کار کی رو سے حکومت موجودہ سال پہلی دو سہ ماہی میں 20 فیصد فنڈز جبکہ تیسری اور چوتھی سہ ماہی میں 30، 30 فیصد فنڈز جاری کرنے کی پابند ہے۔



کالم



فورنگ میں ایک رات


ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…