جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی معیشت کے بارے میں اچھی خبر آ گئی، امریکہ بزنس کونسل کے سالانہ سروے میں دعویٰ

datetime 27  اکتوبر‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی) امریکن بزنس کونسل کے سالانہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 95 فیصدامریکی کمپنیاں پاکستان کے طویل المدت معاشی اور آپریٹنگ ماحول کے بارے میں پُرامید ہیں۔ تاثر جانچنے کے لئے کئے گئے پرسپشن سروے میں 40 فیصد سے زائد کمپنیوں کی رائے تھی کہ پاکستان کے بارے میں عام تصور بہتر ہوا ہے جو گزشتہ برس سے 6 فیصد زیادہ ہے۔ پرسپشن سروے میں اے بی سی کمپنیاں مختلف معاشی، ریگولیٹری اور سیاسی حقائق کے بارے میں اپنی سوچ کا اظہار کرتی ہیں۔

یہ عوامل ان کمپنیوں کی ترقی، کارکردگی اور آپریشن کو متاثر کرتے ہیں۔ کاروباری فضاء کو مختلف عناصر کے ذریعے پرکھا گیا تھا جس میں پالیسیوں میں تسلسل، سیاسی صورت حال، امن و امان، اندرونی اور بیرونی سیاسی صورت حال، حکومتی ترقیاتی بجٹ، یکساں مواقع اور غیر دستاویزی معیشت شامل ہیں۔سروے میں وہ عوامل شامل کئے گئے جو کاروباری سرمایہ کاری، کمپنی آپریشنز، منصوبے اور لاگت کو سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ آپریشنز کے اخراجات سب سے زیادہ رائے کے حامل تھے جس کے بارے میں 87 فیصد نے رائے دی۔ اس کے بعد انفرااسٹرکچر کو 84 فیصد نے اہم گردانا، امن و امان کو 80 فیصد نے اہم قرار دیا جبکہ 75 فیصد نے سیاسی غیر یقینی کو سب سے زیادہ اہم قرار دیا۔یہ بات بھی سروے میں اجاگر ہوئی ہے کہ تین شعبے ایسے ہیں جو ملکی ترقی میں رکاوٹ ہیں ان میں پالیسیوں پر عمل کی کمزوری، 55 فیصد نے اس بارے میں عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ 57 فیصد نے سیاسی غیر یقینی کو غیر اطمینان بخش قرار دیا جبکہ ملک میں غیردستاویزی معیشت پر عدم اطمینان کا اظہار 77 فیصد نے کیا۔سال 2016-17 کے لیے 45 فیصد نے رائے دی کہ کاروباری فضا بہتر ہوئی ہے جبکہ گزشتہ سال یہ رائے 17 فیصد تھی۔ یہ ایک بڑی تبدیلی ہے۔ امریکی کمپنیوں کی مجموعی مثبت رائے سے معاشی استحکام اور پاکستان کی معیشت میں بہتری کی توقع ظاہر ہوتی ہے۔

اسی طرح دیگر قومی اداروں، آئی پی او پی ، ایس ای سی پی، ٹیڈاپ، بی او آئی کے بارے میں کمپنیوں نے اطمینان کا اظہار کیا جبکہ انکم ٹیکس، این ڈی ایم اے، واپڈا، نیپرا کے بارے میں کمپنیوں عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی کارکردگی بہتر بنانے کی گنجائش ہے۔امریکن بزنس کونسل کے صدر کامران نشاط نے کہا کہ ہمارے اراکین نہایت پُرامید ہیں اور پاکستان کو خوشحال ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔ انٹرنیشنل پرسپشن نہایت اہمیت کا حامل ہے جو سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور عالمی مقابلے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

فنانشل سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کمپنیوں نے سال 2017ء کے لیے 135.50ارب روپے قومی خزانے میں محصولات کی مد میں جمع کرائے جو گزشتہ برس 119 ارب روپے تھے۔ اس طرح اس مد میں 14 فیصد کا اضافہ ہوا۔کارپوریٹ سوشل ریسپانسیبلیٹی سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سب سے زیادہ کمپنیوں نے تعاون تعلیم کے شعبے میں کیا جو 70 فیصد ہے، 55 فیصد شعبہ صحت، 43 فیصد خواتین کو بااختیار بنانے، بچوں کی فلاح کے لیے 36 فیصد، امدادی کاموں کے لیے 36 فیصد، اسپیشل لوگوں کے لیے 34 فیصد اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے 25 فیصد نے کام کیا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…