جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

پاکستانی معیشت کے بارے میں اچھی خبر آ گئی، امریکہ بزنس کونسل کے سالانہ سروے میں دعویٰ

datetime 27  اکتوبر‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی) امریکن بزنس کونسل کے سالانہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 95 فیصدامریکی کمپنیاں پاکستان کے طویل المدت معاشی اور آپریٹنگ ماحول کے بارے میں پُرامید ہیں۔ تاثر جانچنے کے لئے کئے گئے پرسپشن سروے میں 40 فیصد سے زائد کمپنیوں کی رائے تھی کہ پاکستان کے بارے میں عام تصور بہتر ہوا ہے جو گزشتہ برس سے 6 فیصد زیادہ ہے۔ پرسپشن سروے میں اے بی سی کمپنیاں مختلف معاشی، ریگولیٹری اور سیاسی حقائق کے بارے میں اپنی سوچ کا اظہار کرتی ہیں۔

یہ عوامل ان کمپنیوں کی ترقی، کارکردگی اور آپریشن کو متاثر کرتے ہیں۔ کاروباری فضاء کو مختلف عناصر کے ذریعے پرکھا گیا تھا جس میں پالیسیوں میں تسلسل، سیاسی صورت حال، امن و امان، اندرونی اور بیرونی سیاسی صورت حال، حکومتی ترقیاتی بجٹ، یکساں مواقع اور غیر دستاویزی معیشت شامل ہیں۔سروے میں وہ عوامل شامل کئے گئے جو کاروباری سرمایہ کاری، کمپنی آپریشنز، منصوبے اور لاگت کو سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ آپریشنز کے اخراجات سب سے زیادہ رائے کے حامل تھے جس کے بارے میں 87 فیصد نے رائے دی۔ اس کے بعد انفرااسٹرکچر کو 84 فیصد نے اہم گردانا، امن و امان کو 80 فیصد نے اہم قرار دیا جبکہ 75 فیصد نے سیاسی غیر یقینی کو سب سے زیادہ اہم قرار دیا۔یہ بات بھی سروے میں اجاگر ہوئی ہے کہ تین شعبے ایسے ہیں جو ملکی ترقی میں رکاوٹ ہیں ان میں پالیسیوں پر عمل کی کمزوری، 55 فیصد نے اس بارے میں عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ 57 فیصد نے سیاسی غیر یقینی کو غیر اطمینان بخش قرار دیا جبکہ ملک میں غیردستاویزی معیشت پر عدم اطمینان کا اظہار 77 فیصد نے کیا۔سال 2016-17 کے لیے 45 فیصد نے رائے دی کہ کاروباری فضا بہتر ہوئی ہے جبکہ گزشتہ سال یہ رائے 17 فیصد تھی۔ یہ ایک بڑی تبدیلی ہے۔ امریکی کمپنیوں کی مجموعی مثبت رائے سے معاشی استحکام اور پاکستان کی معیشت میں بہتری کی توقع ظاہر ہوتی ہے۔

اسی طرح دیگر قومی اداروں، آئی پی او پی ، ایس ای سی پی، ٹیڈاپ، بی او آئی کے بارے میں کمپنیوں نے اطمینان کا اظہار کیا جبکہ انکم ٹیکس، این ڈی ایم اے، واپڈا، نیپرا کے بارے میں کمپنیوں عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی کارکردگی بہتر بنانے کی گنجائش ہے۔امریکن بزنس کونسل کے صدر کامران نشاط نے کہا کہ ہمارے اراکین نہایت پُرامید ہیں اور پاکستان کو خوشحال ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔ انٹرنیشنل پرسپشن نہایت اہمیت کا حامل ہے جو سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور عالمی مقابلے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

فنانشل سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کمپنیوں نے سال 2017ء کے لیے 135.50ارب روپے قومی خزانے میں محصولات کی مد میں جمع کرائے جو گزشتہ برس 119 ارب روپے تھے۔ اس طرح اس مد میں 14 فیصد کا اضافہ ہوا۔کارپوریٹ سوشل ریسپانسیبلیٹی سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سب سے زیادہ کمپنیوں نے تعاون تعلیم کے شعبے میں کیا جو 70 فیصد ہے، 55 فیصد شعبہ صحت، 43 فیصد خواتین کو بااختیار بنانے، بچوں کی فلاح کے لیے 36 فیصد، امدادی کاموں کے لیے 36 فیصد، اسپیشل لوگوں کے لیے 34 فیصد اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے 25 فیصد نے کام کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…