جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ناقص تجارتی پالیسی , ایک سال میں چاول کی برآمدات میں 13.63 فیصد اور سیمنٹ کی برآمدات میں 25.94 فیصد کی کمی واقع

datetime 29  جولائی  2017 |

اسلام آباد(آن لائن) حکومت کی ناقص تجارتی پالیسی کی وجہ سے ایک سال میں چاول کی برآمدات میں 13.63 فیصد اور سیمنٹ کی برآمدات میں 25.94 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ صرف 6 ممالک کو 51 فیصد اشیا برآمد کی جارہی ہیں۔ایک سال کے دوران چاول چمڑے اور ٹیکسٹائل کی مصنوعات کی برآمدات میں بہت واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ دستیاب دستاویز کے مطابق ایک سال کے دوران باستمی چاول اور نان باسمتی چاول کی برآمدات میں 13.63فیصد کی کمی ہوئی ہے۔

دستاویز کے مطابق سعودی عرب متحدہ عرب امارات اور فلپائن نے پاکستان کے بجائے دیگر ممالک سے چاول خریدنا شروع کر دیے جس کا پاکستانی چاول کی برآمد پر برا اثر پڑا۔ افریقہ میں چاول کی بہتر ین اقسام کی کاشت کی وجہ سے اس خطے سے پاکستانی چاول کی ڈیمانڈ میں بڑی کمی واقع ہوئی۔دستاویز کے مطابق دیگر مصنوعات کی طرح سیمنٹ کی ایک سال کے دوران برآمد میں 25.94 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ سیمنٹ کی برآمد میں کمی کی بڑی وجہ جنوبی افریقہ اور افغانستان سے سیمنٹ کی ڈیمانڈ میں بڑی کمی ہے۔ پڑوسی ملک بھار ت پاکستان سے سیمنٹ درآمد کر رہاہے جس کی وجہ سے جنوبی افریقہ اور افغانستان کو سیمنٹ کی برآمد میں ہونے والی کمی کے اثرات کسی حد تک کم ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ برآمدات میں کمی کی ایک بڑی وجہ برآمدات کی منڈی کا محدود ہونا ہے اور صرف چھ مصنوعات برآمد کی جانیوالی کل مصنوعات کا 51فیصد ہیں جبکہ منڈیوں کا تنوع نہ ہونا بھی برآمد ات میں کمی کی وجہ قراردیاگیا ہے۔ صرف چھ منڈیوں کو 51فیصد اشیا برآمد کی جا رہی ہیں۔امریکا، چین، متحدہ عرب امارات افغانستان، برطانیہ اور جرمنی کو پاکستان 51فیصد مصنوعات برآمد کرتاہے۔ حکومت کی جانب سے ویلیو ایڈیشن پر توجہ نہ دینے کے بھی ملکی برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور 74فیصد غذائی اشیا اور ٹیکسٹائل کی چالیس فیصد برآمدات بنیادی شکل میں بھیجی جارہی ہیں۔ مختلف مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن پر توجہ دے کر برآمدی شعبے میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…