کراچی(نیوز ڈیسک ) پاکستان میں مالی سال 2015-16 کی پہلی سہ ماہی میں ٹریکٹرز کی فروخت 6745 یونٹس رہی جو گزشتہ برس کے اسی عرصے میں 9363 کی نسبت 28 فیصد کم ہے،فروخت میں کمی ٹریکٹر کی صنعت کا غلط حکومتی پالیسیوں کے آگے دم توڑنے کا واضح اشارہ ہے۔
پاکستان آٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما)کے ڈائریکڑ جنرل عبدالوحید خان نے کہا ہے کہ یہ منفی رحجان ٹریکٹرکی صنعت کے لیے اچھی بات نہیں جو حال ہی میں جی ایس ٹی کے مسئلے سے باہر نکلی ہے، اس صورتحال کا مطلب ہے کہ اسے حکومتی پالیسیوں کے باعث ایک اور بحران سے گزرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، ٹریکٹرز کی فروخت میں نمایاں کمی کی بڑی وجہ سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں کا جولائی میں اعلان کردہ ٹریکٹر اسکیمز پر کوئی پیشرفت نہ کرنا ہے۔
اس سے کسان اور مقامی ٹریکٹر صنعت دونوں متاثر ہو رہے ہیں، یہ بدقسمتی ہے کہ 90 فیصد سے زائد مقامی حیثیت حاصل کر چکنے والی صنعت کو حکومتی پالیسیوں سے شدید مشکلات درپیش ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 2 بڑے کھلاڑیوں سمیت صنعت میں 6 سے زائد اسمبلر ہیں جو دنیا میں سستے ترین معیاری ٹریکٹرز تیار کر رہے ہیں اور چین و بھارت سمیت خطے کے کسی بھی ملک سے مسابقت کی سکت رکھتے ہیں۔
وحید خان نے کہا کہ پہلے حکومت نے بھاری جی ایس ٹی نافذ کر کے صنعت کو گرایا اور اب وہ اسے تباہ کرنے کے لیے استعمال شدہ ٹریکٹرز کی درآمد کی اجازت پر غور کر رہی ہے، حکومت کو بالکل احساس نہیں کہ اس زرعی ملک میں یہ اہم صنعت اس قسم کے نت نئے تجربات کی متحمل نہیں ہوسکتی بلکہ حکومت کو صنعت کی برآمدی صلاحیتوں کے پیش نظر مدد کے لیے قومی حکمت عملی اپنانی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا کہ مقامی طور پر تیار کردہ ٹریکٹر 7 ہزار ڈالر میں دستیاب ہوتا ہے جبکہ اسی معیار کا ٹریکٹر بین الاقوامی منڈی میں 13ہزار ڈالر کاہے۔ انہوں نے حکومتیی متضاد پالیسیوںکا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے گزشتہ 5 برسوں میں صنعت کے لیے جی ایس ٹی کے معاملات میں 5 بارتبدیلی کی نتیجتاً صنعت 2011 کی سطح پر واپس آ گئی جب اس کا پیداواری حجم کم ہو کر تقریباً نصف رہ گیا تھا اور اس کی مکمل بحالی کی فی الحال کوئی صورت نظر نہیں آتی۔
وحید خان نے کہا کہ ٹریکٹر کے کاروبار کا انحصار 2 اہم فصلوں پر ہوتا ہے، اب صورتحال یہ ہے کہ کسانوں نے سستے ٹریکٹر کی صوبائی اسکیمز کے انتظار میں ٹریکٹرز کی خریداری روک دی ہے اور صوبائی حکومتوں کی متضاد پالیسیوں سے کسان اور صنعت دونوں کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، بڑے مینوفیکچررز کے پاس ان ممکنہ اسکیموں کی وجہ سے ٹریکٹرز کے اسٹاک میں بھی اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ وہ زیادہ پیداوار کی منصوبہ بندی کر چکے تھے، حکومت کو ٹریکٹر کی مقامی صنعت کو رحم کھا کر تباہی سے بچایا جانا چاہیے۔
ٹریکٹر کی فروخت پہلی سہ ماہی میں28فیصد گر گئی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پختونخوا میں گورنر راج کے بعد پاکستان تحریک انصاف سے پہلا پہلا استعفیٰ
-
سکرو ڈرائیور سے سوراخ کیے گئے‘، موت سے قبل حنا جاوید پر بہیمانہ تشدد کی لرزہ خیز تصاویر سامنے آگئیں
-
پنجاب حکومت نے گندم کی نئی قیمت مقرر کردی
-
کسانوں کے لیے بڑی خوشخبری، حکومت نے گندم کی قیمت مقرر کر دی
-
متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کیلیے نئی فیسوں کا اعلان
-
پاکستان میں کون کون سی گاڑیاں سستی ہونے والی ہیں؟ بڑی خبر آگئی
-
وزارت ملتے ہی ڈی جی فوڈ کی میوزیکل چیئر شروع، 24 گھنٹوں میں 2 مرتبہ ڈی جی فوڈ تبدیل
-
سرکاری ملازمین کے لیے اہم خبر، حکومت نے نیا حکم جاری کر دیا
-
میری بیٹی نے 15 برس کی عمر میں قرآن کی تعلیم حاصل کی تھی: سابق امریکی صدر بل کلنٹن کا انکشاف
-
زلزلے کے جھٹکے،لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے
-
ای بائیکس اور الیکٹرک رکشے خریدنے کے خواہشمندوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئی
-
ٹرائی سیریز: سری لنکا نے نئی تاریخ رقم کر دی
-
حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کردیا
-
سونا خریدنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری، قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی



















































