بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

پاور جنریٹرز کے استعمال میں اضافہ سے درآمدی بل 121 ارب سے تجاوز کر گیا

datetime 22  جون‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)ملک میں توانائی کا بحران درآمدی بل میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ پاور جنریٹنگ مشینری کا درآمدی بل 11ماہ کے دوران ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے۔جولائی سے مئی کے دوران ایک ارب 20کروڑ ڈالر کی پاور جنریٹنگ مشینری درآمد کی گئی ہے جو پاکستانی روپے میں 121 ارب روپے کے برابر ہیں۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں درا?مد کی جانے والی پاور مشینری کی مالیت سے 20فیصد زائد ہے۔ حکومت کے تمام تر دعوو¿ں کے باوجود ملک میں توانائی کا بحران اپنی پوری شدت سے برقرار ہے۔ ملک میں بجلی کی پیداوار میں اضافہ نہ ہونے اور طلب میں مسلسل اضافے کی وجہ سے گھریلو اور کمرشل سطح پر جنریٹرز کے استعمال کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ بجلی کی اضافی طلب پوری کرنے کے لیے جنریٹرز کا استعمال گیس، پٹرول، ڈیزل اور لبریکنٹس کے خرچ میں بھی اضافے کا سبب بن رہا ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے مئی کے دوران 121ارب 67کروڑ 20لاکھ روپے مالیت کے جنریٹرز درا?مد کیے گئے۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں جنریٹرز کی درا?مد پر 101ارب 25کروڑ 90لاکھ روپے کے جنریٹرز درا?مد کیے گئے تھے۔ صرف مئی 2015کے مہینے میں 10ارب 59کروڑ روپے کے جنریٹرز درا?مد کیے گئے۔ گزشتہ سال مئی کے مہینے میں 10ارب 37کروڑ روپے کے جنریٹرز درا?مد کی گئے تھے۔ اپریل 2015کے مہینے میں 16ارب 52کروڑ روپے کے جنریٹرز درا?مد کیے گئے۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھریلو اور کمرشل استعمال کے لیے 80فیصد جنریٹرز چین سے درا?مد کیے جارہے ہیں ہیوی جنریٹرز میں امریکا اور یورپی ملکوں کے جنریٹرز سرفہرست ہیں جاپانی برانڈز کے جنریٹرز بھی چین، تھائی لینڈ اور بھارت سے درا?مد کیے جارہے ہیں حالیہ گرمی کی لہر میں بجلی کا بحران بڑھنے سے جنریٹرز کی طلب میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اور مختلف برانڈز کے جنریٹرز کی قیمت بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں 15سے 20فیصد تک بڑھادی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…