کراچی(نیوزڈیسک) انسٹی ٹیوشنز کی اچانک خریداری سرگرمیوں نے کراچی اسٹاک ایکس چینج کوبڑی نوعیت کی مندی سے بچالیا، بعدازبجٹ پیرکو رونما ہونے والی بڑی نوعیت کی مندی تیزی میں تبدیل ہوگئی جس سے انڈیکس کی 34100 پوائنٹس کی حد بھی بحال ہوگئی، 58.91 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں بھی 33 ارب8 کروڑ30 لاکھ64 ہزار843 روپے کا اضافہ ہوگیا۔
ماہرین اسٹاک وتاجران کا کہنا تھا کہ وفاقی بجٹ میں اسٹاک مارکیٹ میں تجارت وسرمایہ کاری پرمختلف نوعیت کے نئے ٹیکسز عائد ہونے اور پرانے ٹیکسوں کی شرحوں میں اضافے، بینکنگ سیکٹر پر ٹیکس کی شرح بڑھانے جیسے عوامل کیپیل مارکیٹ کی سرگرمیوں پر اثرا انداز ہیں، یہی وجہ ہے کہ کاروبار کے آغاز سے ہی سرمایہ کاری کے مختلف شعبوں نے وسیع پیمانے پر حصص کی آف لوڈنگ کرکے بجٹ اقدامات پر مایوسی کا اظہار کیا، سب سے زیادہ فروخت بینکنگ سیکٹر کے حصص میں دیکھی گئی جس کی وجہ سے مندی کی شدت ایک موقع پر875.87 پوائنٹس کی کمی تک جا پہنچی تھی تاہم انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے سیمنٹ اور ٹیکسٹائل سیکٹر میں ہونے والی سرمایہ کاری کے نتیجے میں شدید مندی یکدم تیزی میں تبدیل ہو گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بجٹ اقدامات کے اثرات آئندہ کاروباری سیشنز میں بھی اثرانداز رہیں گے تاہم توقع ہے کہ سرکاری مالیاتی ادارے اپنی سرمایہ کاری بڑھاکرمارکیٹ کو مستحکم رکھنے کی کوششیں کریں گے، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، مقامی کمپنیوں، میوچل فنڈز، این بی ایف سیز اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر1 کروڑ55 لاکھ42 ہزار872 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ اس دوران بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے 1 کروڑ6 لاکھ18 ہزار48 ڈالر اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے50 لاکھ47 ہزار195 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔
تیزی کے سبب کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس138.62 پوائنٹس کی کمی سے 34151.11 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس0.38 پوائنٹ کے اضافے سے21563.03 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 1373.56 پوائنٹس کے اضافے
سے 57392.22 ہوگیا، کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 34.86 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر44 کروڑ99 لاکھ77 ہزار580 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار387 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں228 کے بھاﺅ میں اضافہ، 139 کے داموں میں کمی اور20 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں رفحان میظ کے بھاﺅ125 روپے بڑھ کر8925 روپے اور پاکستان ٹوبیکو کے بھاﺅ43.99 روپے بڑھ کر 943.99 روپے ہوگئے جبکہ یونی لیورفوڈز کے بھاﺅ 419.50 روپے کم ہوکر7970.50 روپے اور نیسلے پاکستان کے بھاﺅ25 روپے کم ہوکر10000 روپے ہوگئے۔
کراچی سٹاک ایکس چینج میں مندی تیزی میں تبدیل
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
انمول پنکی کیسے گرفتار ہوئی؟ تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے
-
عوام کیلئے بڑی خوشخبری ، عالمی مارکیٹ میں سولر پینلز کی قیمتیں تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں
-
پیٹرول کی قیمتیں کب کم ہوں گی؟ خواجہ آصف نے بڑی خوشخبری سنا دی
-
پی ٹی آئی کے اہم رہنما انتقال کر گئے
-
’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘
-
آئی پی پیز کو دفن کر دیا ، اب بجلی کو اتنا سستا کرنے جا رہے ہیں کہ لوگ بیٹری میں محفوظ کر کے را...
-
ان ٹارگٹڈ کراس سبسڈی ختم، بجلی کی پوری قیمت وصول کرنے کا فیصلہ
-
بجلی کی پیداوار سے متعلق وزیراعظم کا بڑا فیصلہ
-
درآمدی سولر پینل پر کسٹمز ڈیوٹی کیلیے نئی قیمتیں مقرر
-
ذوالحج 1447 ہجری کا چاند کب نظر آنے کا امکان ہے؟ سپارکو نے ممکنہ تاریخ بتا دی
-
شاطر ڈرگ ڈیلر پنکی، جس نے شناخت چھپانے کیلیے تیزاب میں انگلیاں جلائیں، زندگی سے متعلق اہم انکشافات
-
شادی میں لیگ پیس نہ ملنے پر تصادم، نوجوان ہلاک
-
کتابوں پر پلاسٹک کور چڑھانے پر مکمل پابندی عائد، خلاف ورزی پر بھاری جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ
-
ٹریفک حادثے کے بعد کار سوار نے نوجوان کو گولیاں مار دیں



















































