اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاﺅٹ،غیرملکی جریدے نے وجوہات سے پردہ اٹھادیا

datetime 8  جون‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)امریکی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری پاکستان کی معیشت کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے جبکہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں کی بڑی تعداد خود ٹیکس دیتی ہے نہ ہی ٹیکس اصلاحات میں دلچسپی رکھتی ہے۔ امریکی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان میں صرف 0.5 فیصد افراد انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ بھارت میں انکم ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد 2سے 3فیصد ہے جبکہ چین میں یہ تعداد 20 فیصد ہے۔اخبار کے مطابق ملک کے بڑے حصے میں ٹیکس ادائیگی کی شرح اتنی کم ہے کہ ٹیکس دفاتر بند کرکے حکومت بچت کر سکتی ہے۔ پاکستانیوں کی بڑی تعداد فراڈ یا ٹیکس حکام کی ملی بھگت سے ٹیکس چوری کرتی ہے۔ ٹیکس چوری کا بڑا اور بدنام طریقہ زرعی اراضی کی خریداری ہے۔ زراعت کا شعبہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہے۔ زرعی اراضی خرید کر زراعت سے آمدن زیادہ ظاہر کی جاتی ہے جبکہ دوسرے کاروبار میں آمدن کم یا خسارہ ظاہر کر دیا جاتا ہے۔پارلیمنٹ میں زمینداروں کی اکثریت ہے جو زراعت پر ٹیکس کے نفاذ میں رکاوٹ ہے۔ پاکستان کی معیشت کے حوالے سے حال ہی میں اچھی خبریں آئیں لیکن آئی ایم ا یف حکام ٹیکس چوری اور فراڈ کو معیشت کیلئے بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے والے آئی ایم ایف کے وفد کے سربراہ ہیرالڈ فنگر کا کہنا ہے کہ گراس ڈومیسٹک پراڈکٹس میں ٹیکس کی شرح صرف10 سے 11 فیصد ہے جو بہت کم ہے، بہتری کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے۔فیڈرل ریونیو بیورو سالانہ ایک لاکھ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لا رہا ہے جو قابل حصول ہدف کی نچلی ترین سطح ہے۔ یورپی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے حکمران طبقے کی ترجیحات میں ٹیکس وصولی شامل ہی نہیں اور وہ بیانات سے زیادہ کچھ نہیں کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…