اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مالی سال2010ءتا2014ءکے چار سال کے دوران سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان( ایس ای سی پی) نے زرعی شعبہ سے وابستہ303 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی ہے۔ زراعت سے منسلک نئے صنعتی اداروں کے قیام سے دیہی تجارتی ادارے نئے مواقع سے استفادہ کررہے ہیں تاہم ملک کے دور دراز اور دشوار گزار دیہی علاقوں میں صنعتی اداروں کی کمی کے باعث زرعی شعبہ کی استعداد سے حقیقی استفادہ حاصل نہیں ہورہا۔ زرعی شعبہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومتوں نے زرعی بجٹ میں خاطر خواہ اضافے کئے ہیں تاہم صوبائی حکومتیں زیادہ تر توجہ آب پاشی، زرعی فارموں کو توانائی کی فراہمی اور زرعی مداخلت کے منصوبوں پر دے رہی ہیں جبکہ دیہی علاقوں میںصنعتی اداروں کے قیام پر کم توجہ دی جارہی ہے جس کی وجہ سے زراعت کے شعبہ کی استعداد سے حقیقی فائدہ حاصل نہیں ہورہا۔ نیشنل فوڈ اینڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں زرعی شعبہ سے بھرپور استفادہ کےلئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کئے گئے ہیں اور زراعت کے شعبہ سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کے حصول کی خاطر وزارت تمام صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے ملک بھرمیں جامع سروے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2010ءتا 2014ءکے چارسالوں کے دوران زراعت سے وابستہ300 سے زائد نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی ہے اور اس عرصہ کے دوران فوڈ اینڈ بیوریج کے شعبہ کی 246 نئی کمپنیاں جبکہ وناسپتی اور اس سے متعلقہ مصنوعات کی 40 کمپنیاں اور شوگر کی 17 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی ہے جن میں سے زیادہ تر کمپنیاں کام شروع کرچکی ہیں جس سے ملک میں زرعی کاروبار میں اضافہ ہوا ہے۔ زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ ملک کے دیہی علاقوں میں زراعت سے وابستہ صنعتی اداروں کے قیام سے دیہی معیشت کے استحکام میں مدد کے ساتھ ساتھ بے روزگاری کے خاتمہ میں بھی مدد ملے گی۔