واشنگٹن (نیوزڈیسک) امریکا کے دفاعی ادارے ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) مائیکل ٹی فلن کا کہنا ہے کہ امریکا کو پاکستان میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشنز کی بجائے مشترکہ فوجی آپریشن کرنے چاہیے تھے، انھوں نے کہا کہ یہ جاننے کے فوراً بعد کہ اسامہ بن لادن کو پاکستان میں پناہ گاہ مل گئی ہے، پاکستان میں نہ جانا ایک بہت بڑی اسٹریٹیجک غلطی تھی۔ اگر ہم یہ غلطی نہ کرتے تو ہمیں اسامہ بن لادن کو پکڑنے میں دس سال نہ لگتے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملوں کے 14 برس مکمل ہونے پر برطانوی ٹی وی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا، لیفٹیننٹ جنرل (ر) مائیکل ٹی فلن سنہ 2012 سے سنہ 2014 تک ڈی آئی اے کے سربراہ تھے اور وہ افغانستان میں ایساف افواج کے ڈائریکٹر آف انٹیلی جنس بھی رہے، لیفٹیننٹ جنرل (ر) مائیکل ٹی فلن کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے قبائلی علاقوں میں امریکی فوجیوں کی موجودگی نہیں چاہتا تھا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ اس سے بہت سے مسائل پیدا ہوں گے
اسامہ کے پیچھے فوراً پاکستان نہ جانا غلطی تھی، سابق امریکی انٹیلی جنس سربراہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
امانت خان شیرازی
-
ایران، اسرائیل امریکا جنگ،بابا وانگا کی خطرناک پیشگوئی
-
ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں پر چین کا ردعمل بھی آگیا
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر حیران کن اضافہ
-
عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتیں، حکومت پاکستان کا بڑا فیصلہ!
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم خبر آگئی
-
دو چھٹیوں کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری
-
امریکا و اسرائیل کے حملے کے بعد ایرانی صدر کا پہلا بیان سامنے آگیا
-
پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا
-
ایرانی میڈیا نے آیت اللہ خامنہ ای کا آخری پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کردیا
-
خامنہ ای سے ملاقات کیلئے لوگوں کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر لے جایا جاتا تھا، بڑا دعویٰ
-
ایران کا اسرائیل پر مہلک حملہ، کئی افراد ہلاک
-
سونا ہزاروں روپے مہنگا فی تولہ قیمت نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا
-
آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکی و اسرائیلی حملے میں شہادت پرروسی صدر پیوٹن کا بھی ردعمل بھی آگیا



















































