پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

ایئرفریشنراورخوشبودارشمعیں کینسراوردمہ کا سبب بنتے ہیں، تحقیق

datetime 1  اکتوبر‬‮  2015 |

لندن: بعض اوقات دل کو لبھاتی اور سانسوں کو مہکا دینے والی خوشبوئیں صحت کے لیے زہر قاتل ثابت ہوتی ہیں اور غیر محسوس انداز میں ہماری سانسوں کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر کئی بیماریوں کا باعث بنتی ہیں اسی لیے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایئر فریشنر اور دیگر خوشبودار اشیاءکینسر اور دمہ جیسی خطرناک بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔
برطانیہ میں کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روم فریشنر، خوشبودار موم بتیاں، جیل، باڈی اسپرے اور دیگر خوشبو دار اشیاء انسانی سانسوں کے ذریعے جسم میں داخل ہو جینز کو متاثر کرکے کینسر اور سانس کی بیماریوں کا سبب بنتی ہیں۔ صرف برطانیہ میں لوگ ہر سال 40 کروڑ پاو¿نڈز ایرو سول یعنی ان خوشبو پھیلانے والی اشیاء پر صرف کردیتے ہیں اور جس سے وہ خود کو آرام دہ، صاف اور فریش محسوس کرتے ہیں لیکن اس نئی تحقیق میں ثابت کیا گیا ہے کہ در حقیقت ان مصنوعات میں انڈسٹریل کیمیکل موجود ہوتا ہے جو ڈی این اے کی ساخت کو تبدیل کردیتا ہے۔
ان کیمیکلز میں موجود اجزا میں ”فرینک انسینس“ ہمارے دماغ میں تبدیلیاں لا کر ہمارے مزاج کو عارضی طور پر خوشگوار بنا دیتا ہے لیکن اس سے نکلنے والا فیوم یا دھواں سگریٹ کے دھویں سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے جو ہمارے ڈی این اے کی ساخت میں تبدیلی لا کر کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق جب کوئی خوشبودار موم بتیاں یا اسٹکس جلتی ہیں تو ان میں سے نکلے والے ذرات ہمارے پھیپھڑوں میں جم جاتے ہیں اور ورم اور خطرناک جلن کا باعث بنتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ان مصنوعات میں استعمال ہونے والے اجزا ”اگرا ووڈ“ اور صندل ووڈ ہمارے ڈی این اے کے خلیوں کے لیے تمباکو کے دھویں سے بھی زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا کہ ہوا میں چھوڑے گئے ان پرفیوم سے پھیپھڑوں کی تباہی، ٹیومر، ہارمونز کا عدم توازن اور دمہ جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ پبلک ہیلتھ انگلینڈ سینٹر فار ریڈی ایشن، کیمیکل اینڈ ماحولیاتی خطرات نے خبردار کیا ہے یہ ائیر فریشنرز ناک اور گلے میں کینسر کا باعث بننے والے جز ”فارمل ڈی ہائیڈ“ فضا میں چھوڑ دیتے ہیں جو یہ گلے کی خرابی، کھانسی، آنکھوں میں خارشاور ناک سے خون آنے کا باعث بھی بنتے ہیں۔
2013 میں حاملہ خواتین پر کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو خواتین گھروں میں ایئر فریشنر کا استعمال کرتی ہیں ان کے بچے کے پھیپھڑوں کے کینسر اور خرخراہٹ کی بیماری میں مبتلا ہونے کے زیادہ امکانات پائے گئے جب کہ ایک اور تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 14 ہزار بچوں کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ ان بچوں میں کان کے درد اور ہیضہ کے مرض موجود تھےجب کہ ان کی مائیں سر کے درد اور ڈپریشن کا شکار تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…