منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

’ہم اپنے ملک میں مسلمانوں کی بڑی تعداد نہیں چاہتے‘ وزیراعظم ہنگری

datetime 4  ستمبر‬‮  2015 |

بڈاپسٹ(نیوز ڈیسک)ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان نے خبردار کیا ہے کہ یورپ آنے والے بڑی تعداد میں مسلمان پناہ گزینوں سے یورپی بر اعظم کی عیسائی بنیادوں کو خطرہ ہے۔تاہم ان کے اس دعوے کو جرمنی نے رد کر دیا ہے۔خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق برسلز میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم اپنے ملک میں بڑی تعداد میں مسلمان نہیں چاہتے‘فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو ہنگری کے وزیراعظم نے یورپ میں جرمنی کے اخبار فرینکفرٹر الگیمین زیٹنگ میں تارکین وطن کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’اگر تعداد میں اضافہ ہوگا تو آپ تارکین وطن کو قبول نہیں کر سکتے۔‘انھوں نے مزید لکھا کہ ان میں سے بیشتر عیسائی نہیں بلکہ مسلمان ہیں۔ انھوں نے یورپی یوربین کی امیگریشن کی پالیسی کو بھی ’ناکام‘ قرار دیا۔انھوں نے لکھا کہ ’ہمیں یہ بالکل نہیں بھولنا چاہیے کہ جو لوگ یہاں آرہے ہیں وہ ایک مختلف مذہب کے زیراثر پلے بڑھے ہیں اور ایک مختلف ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں۔‘’بیشتر عیسائی نہیں بلکہ مسلمان ہیں۔ یہ ایک اہم سوال ہے کیونکہ یورپ اور یورپی کلچر کی بنیادیں عیسائیت پر ہیں۔ یا کیا یہ ہے تشویش ناک صورتحال نہیں ہے کہ یورپ کے عیسائی کلچر یورپ کی اپنی عیسائی اقدار قائم رکھ نہیں پارہا۔‘اے ایف پی کے مطابق جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برن کے دورے کے دوران کہا ہے کہ ’ کسی حد تک ہمارے ذہن میں عیسائی اقدار موجود ہیں لیکن میرے خیال میں انسان کی عظمت زیادہ اہم ہے۔ اور اس کے حفاظت ہراس جگہ کرنا چاہیے جہاں یہ خطرے میں ہے۔‘واضح رہے کہ ہنگری کے دارالحکومت بڈاپیسٹ کے ریلوے سٹیشن پر ہزاروں کی تعداد میں پھنسے ہوئے تارکین وطن کے مسئلے پر بات کرنے کے لئے ہنگری کے وزیراعظم اور یورپی یونین کے حکام برسلز میں ملاقات کررہے ہیں۔اس دوران ہنگری کے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ تارکینِ وطن کا مسئلہ اصل میں ’جرمنی کا مسئلہ‘ ہے کیونکہ یورپی یونین میں آنے والے سبھی تارکینِ وطن وہاں ہی جانا چاہتے ہیں۔جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل اور فرانس کے صدر فرانسو اولاند نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تارکین وطن کی یورپی ممالک میں منصفانہ تقسیم کی تجاویز تیار کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…