ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

کراچی میں ٹریفک پولیس اہلکار بندوق چلانا بھول گئے

datetime 3  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)کراچی کے ٹریفک پولیس اہلکاروں پر پے درپے حملوں کے بعد انہیں اسلحہ فراہم کرنے کافیصلہ کیا گیا ، لیکن یہ فیصلہ بھی کارگر ثابت نہ ہوسکا،کیوں کہ ٹریفک پولیس اہلکاروں کو اسلحہ اتنی دیر بعدملا کہ وہ چلانا ہی بھول چکے تھے۔ ایسا کچھ گذشتہ روز دیکھنے میں آیا جب پولیس اہلکاروں پر حملہ ہوا تو وہ اسلحے کے باوجود جوابی کارروائی نہ کرسکے ،اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے مچھلی تیرنا بھول گئی ،پرندے اڑنا بھول گئے یاپولیس اہلکار اسلحہ کا استعمال بھول جائے،ایسا ہونانہیں چاہیے لیکن ایسا ہوگیا ہے۔کراچی میں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے سانحے سے بڑا حادثہ یہ ہوا ہے کہ حملے کے وقت دو اہلکاروں کے پاس کلاشنکوف موجود تھیں ، وہ لوڈڈ بھی تھیں، لیکن اہلکار ، حملہ آوروں پر گولیاں نہ چلاسکے اور یہ انکشاف ہوا ہے کہ گذشتہ روز ٹریفک پولیس اہلکاروں پر حملے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گلبائی کے مقام پر حملے میں ایک پولیس اہلکار جاں بحق اور دو زخمی ہوئے۔رپورٹ کے مطابق کارروائی کی جگہ سے نائن ایم ایم پسٹل کے دس خول ملے ہیں ، اہلکاروں پر موٹر سائیکل سوار دو افراد نے فائرنگ کی جن کی عمریں بیس سے تیس سال کے درمیان تھیں ، واقعے کے وقت دس پولیس اہلکار موجود تھے جن میں سے دو کے پاس کلاشنکوف بھی تھیں ، لیکن پولیس اہلکار اسلحہ استعمال ہی نہ کرسکے۔ رپورٹ کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ طویل عرصے سے ٹریفک اہلکاروں کا تربیتی کورس نہیں ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…